أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا تَجۡــئَرُوا الۡيَوۡمَ‌ ۖ اِنَّكُمۡ مِّنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آج مت بلبلائو، بیشک ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی

المئومنون : ٦٥ میں فرمایا آج مت بلبلائو بیشک ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔

اس گرفت سے مراد وہ عذاب ہے جو جنگ بدر کے دن شکست کی صورت میں ان پر نازل ہوا ان کے ستر افراد قتل کئے گئے اور ستر افراد قید کئے گئے اور باقی افراد پسپا ہو کر ذلت کے ساتھ الٹے پائوں بھاگے۔

ضحاک نے کہا اس سے مراد وہ عذاب ہے جو قحط کی صورت میں ان پر مسلط کیا تھا، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سر اٹھاتے تو کہتے سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد، پھر چند مشرکوں کا نام لے کر ان کے خلاف دعا فرماتے : اے اللہ ولید بن الولید کو نجات دے اور سلمہ بن ہشام کو اور عیاش بن ابی ربیعہ کو اور کمزور مومنوں کو اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی سخت گرفت کر، اے اللہ ان پر ایسے قحط کے سال مسلط کر دے جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں قحط مسلم کیا تھا اور ان دنوں مضر کے اہل مشرق آپ کے مخالف تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٠٤ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٧٥ سنن ابو دائود رقم الحدیث ١٤٤٢ س نن النسائی رقم الحدیث، ١٠٧٥)

بجشرون کا معنی ہے وہ زور سے چیخیں گے اور فریاد کریں گے جوار کا اصل معنی ہے بیل کی طرح گڑ گڑا کر آواز نکالنا اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج تم مت بلبلائو تم سے عذاب دور نہیں کیا جائے گا اور تمہارا چیخنا اور چلانا تم کو کوئی نفع نہیں دے گا 

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 65