أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗۤ اٰيَةً وَّاٰوَيۡنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبۡوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيۡنٍ۞ 

ترجمہ:

اور ہم نے ابن مریم اور ان کی ماں کو اپنی قدرت کی نشانی بنادیا اور ہم نے ان کو بلند ہموار زمین کی طرف پناہ دی جو لائق سکونت تھی اور اس میں چشمے جاری تھے  ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے ابن مریم اور ان کی ماں کو (اپنی قدرت کی) نشانی بنادیا اور ہم نے ان کو بنلد ہموار زمین کی طرف پناہ دی جو لائق سکونت تھی اور اس میں چشمے جاری تھے۔ (المومنون : ٥٠ )

حضرت عیسیٰ بن مریم کا قصہ 

حضرت عیسیٰ بن مریم کا قصہ پوری تفصیل کے ساتھ مریم : ٤٠١٦ میں گزر چکا ہے۔

حضرت عیسیٰ بن مریم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا کیونکہ ان کو بغیر کسی مرد کے پیدا کیا اور پیدا ہوت یہی پنگھوڑے میں ان کو متکلم بنادیا اور انکے ہاتھ سے مادر زاداندھوں کو برص کے مریضوں کو شفا دی اور مردوں کو زندہ کیا اور حضرت مریم کو بھی اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا کیونکہ وہ بغیر مرد کے حاملہ ہوئیں ان کے پاس بےموسمی پھل آتے تھے اور جب حضرت زکریا نے پوچھا تمہارے پاس یہ پھل کہاں سے آئیت و انہوں نے کہا : 

(آل عمران : ٣٧) یہ اللہ کے پاس سے آئے ہیں، بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے۔

انہوں نے کسی عورت کے پستان کو منہ نہیں لگایا تھا، اگر یہ روایت ثابت ہو تو یہ حضرت عیسیٰ کا معجزہ ہے اور حضرت مریم کی کرامت ہے اور یہ دونوں ہی اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں کیونکہ حضرت مریم بغیر مرد کے حاملہ ہوئیں اور ان سے حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے اور حضرت عیسیٰ بغیر مرد کے اور بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔

فرمایا ہم نے ان کو بلند ہموار زمین کی طرف پناہ دی جو لائق سکونت تھی اور اس میں چشمے جاری تھے۔

قتادہ اور ابوالعالیہ نے کہا یہ بیت القدس کی سر زمین ہے جس کو ایلیا کہتے ہیں اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا یہ رملہ (فلسطین) ہے، کلبی اور ابن زید نے کہا یہ مصر ہے اور زیادہ مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ دمشق ہے، قتادہ نیح کہا اس جگہ پانی کے چشمے تھے اور پھل تھے۔ انبیاء (علیہم السلام) کے قصص میں سے یہ آخری قصہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 50