أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلۡ قَالُوۡا مِثۡلَ مَا قَالَ الۡاَوَّلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بلکہ انہوں نے بھی اسی طرح کہا جس طرح پہلے لوگ کہتے آئے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بلکہ انہوں نے بھی اسی طرح کہا جس طرح پہلے لوگ کہتے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم ضرور اٹھائے جائیں گے ؟۔ بیشک ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے بھی اسی طرح کا وعدہ کیا گیا تھا یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (المئومنون :81 -83

حشر کے وقوع میں مشرکین کے شبہات اور انکے جوابات 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود اور اپنی توحید پر دلائل ذکر فرمائے تھے اس کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے حشر نشر اور آخرت کا ذکر فرمایا، جس طرح پہلی امتوں کے لوگوں نے روشن اور واضح دلائل سامنے آنے کے باوجود مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا ایک شبہ یہ تھا کہ جب ان کی ہڈیاں بوسیدہ ہو کر اور گل کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور خاک بن کر خاک میں مل جائیں گی اور ہوائوں کے تھپیڑوں سے ان کی خاک دوسروں کی خاک میں مل جائے گی تو ان بکھرے ہوئے منتشر ذروں کو کس طرح جمع کیا جائے گا اور جو ذرات ایک دوسرے سے مختلط ہوچکے ہیں ان کو کیسے الگ الگ اور متمیز کیا جائے گا ؟ اور ان کا یہ شبہ اس لئے باطل ہے کہ ان مختلط ذرات کو وہ متمیز نہیں کرسکتا جس کا علم ناقص ہو اور ان منتشر ذرات کو وہ جمع نہیں کرسکتا جس کی قدرت ناقص ہو اور جس کا علم بھی کامل ہے اور جس کی قدرت بھی کامل ہے اس کے لئے ان منتشر ذرات کو جمع کرنا اور ان مختلط ذرات کو متمیز کرنا کیا مشکل ہے اور کیسے بعید ہے، اور ان کا دوسرا شبہ یہ تھا کہ ا س سے پہلے دوسرے انبیاء بھی قیامت آنے اور حشر و نشر کا وعدہ کرچکے تھے اور اتناطویل عرصہ گزر گیا اور ابھی تک قیامت آئی نہ حشر ہوا، سو یہ محض قصے اور کہانیاں ہیں ان کا یہ شبہ بھی باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں قیامت کا ایک وقت مقرر ہے اور جب وہ وقت آجائے گا تو قیامت کے آنے میں ایک لمحہ کی بھی دیر نہیں ہوگی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 81