باب السنن وفضائلھا

سنتوں اور ان کی فضیلت کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یہاں وہ سنتیں مراد ہیں جو دن رات میں فرض نماز کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں مؤکدہ ہو یا غیرمؤکدہ ،سنت مؤکدہ کو روایت بھی کہا جاتا ہے۔(لمعات)خیال رہے کہ سنت،نفل تطوع،مندوب،مستحب،مرغب،حسن یہ تمام الفاظ ہم معنی ہیں جن کا کرنا ثواب اور نہ کرنا گناہ نہیں۔بعض سنتیں مؤکدہ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ پڑھیں،بعض غیرمؤکدہ جو کبھی کبھی پڑھیں۔حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں فرائض کا نقصان نوافل سے پورا کیا جائے گا۔(مرقاۃ)

حدیث نمبر 383

روایت ہے حضرت ام حبیبہ سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھا کرے اس کے لیئے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۲؎ چار ظہر سے پہلے دو ظہر کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد دو رکعتیں عشاء کے بعد دو رکعتیں فجر سے پہلے ۳؎(ترمذی)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی مسلمان بندہ ایسا نہیں کہ اﷲ کے لیئے ہر دن بارہ رکعتیں نفل پڑھ لیا کرے فرض کے علاوہ ۴؎ مگر اﷲ اس کے لیئے جنت میں گھر بنائے گا یا جنت میں گھر بنایا جائے گا۔

شرح

۱؎ آپ کا نام رملہ بنت ابو سفیان ہے،کنیت ابو حبیبہ امیر معاویہ کی بہن ہیں،آپ کی والدہ صفیہ بنت عاص یعنی حضرت عثمان غنی کی پھوپھی ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا نکاح نجاشی شاہ حبشہ نے کیا، ۴۴ھ؁ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی جنت کا اعلیٰ درجے کا محل اس کے لیئے نامزد کیا جائے گا کیونکہ وہاں مکانات تو پہلے ہی موجود ہیں یا ان سنن کی برکت سے اس کے لیئے نیا خصوصی گھر استعمال ہوگا کیونکہ جنت کا بعض سفیدہ بھی ہے جہاں اعمال کے مطابق محل تعمیر ہوتے ہیں جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔

۳؎ یعنی بارہ سنتیں مؤکدہ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ پڑھتے تھے ظہر کا ذکر اس لیئے پہلے کیا کہ حضرت جبریل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی نماز یہ ہی پڑھائی اس لیئے اسے صلوۃ اولیٰ کہتے ہیں ان میں سنت فجر بہت تاکیدی ہیں حتی کہ بعض نے انہیں واجب کہا۔سعید ابن جبیر فرماتے ہیں کہ اگر میں سنت فجر چھوڑ دوں تو خطرہ ہے کہ رب مجھے نہ بخشے۔

۴؎ یعنی یہ رکعتیں اگرچہ مؤکدہ ہیں مگر فرض یا واجب نہیں،لہذا اس سے ان لوگوں کا رد ہوگیا جو سنت فجر کو واجب کہتے ہیں۔