أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّا عَلٰٓى اَنۡ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمۡ لَقٰدِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم آپ کو وہ عذاب دکھانے پر ضرور قادر ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار کا عذاب دکھانا 

مشرکین عذاب کا انکار کرتے تھے اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اس سے ڈراتے کہ اگر وہ اس طرح کفر اور شرک پر قائم رہے اور اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑاتے تھے سو اللہ تعالیٰ نے المئومنون : ٩٥ میں فرمایا : بیشک ہم آپ کو وہ عذاب دکھانے پر ضرور قادر ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

اس آیت کا معنی یہ یہ کہ اللہ سبحانہ اس پر قادر ہے کہ وہ اپنے رسول کو ان کا عذاب دکھائے لیکن اس نے ان سے اس عذاب کو مئوخر کردیا ہے، کیونکہ اس کو عمل ہے کہ ان میں سے بعض لوگ ایمان لے آئیں گے یا ان کی اولاد ایمان لے آئے گی یا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے :

وما کان اللہ لیعذبھم و انت فیھم (الانفال : ٣٣) اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ جب آپ ان کے درمیان ہوں تو وہ ان پر عذاب بھیج دے۔

ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کا عذاب دکھا دیا جب ان پر قحط کی صورت میں بھوک کا عذاب نازل کیا حتیٰ کہ وہ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے۔

حضرت ابن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ قریش نے اسلام قبول کرنے کو مئوخر کردیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے خلاف دعائے ضرر کی تو ان کو قحط نے پکڑ لیا حتیٰ کہ وہ اس میں ہلاک ہونے لگے اور انہوں نے مردار جانور اور ہڈیں کھائیں پھر ابوسفیان آپ کے پاس آئے اور کہا اے محمد ! آپ رشتوں کو جڑونے کا حکم دیتے ہیں اور آپ کی قوم بلاک ہو رہی ہے آپ اللہ سے دعا کیجیے تو آپ نے یہ آیت پڑھی :

فارتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین۔ (الدخان : ١٠) آپ اس دن کا اتنظار کریں جب آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔

(کفار قحط کے ایام میں ھبوک سے جبور ہو کر آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری کی شدت کی وجہ سے انہیں آسمان دھوئیں کی طرح نظر آتا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ قرب قیامت کی دس بڑی علامات میں سے ایک علامت دھواں بھی ہے جس سے کافر بہت زیادہ متاثر ہوں گے اور مومن کم اس آیت میں اسی دھوئیں کا ذکر ہے اس تفسیر کے اعتبار سے یہ عالمت قیامت کے قریب ظاہر ہوگی جب کہ پہلی تفسیر کے اعتبار سے یہ علامت ظاہر ہوچکی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے اور یہ دونوں تفسیریں صحیح ہیں) ۔

پھر وہ لوگ اپنے کفر کی طرف لوٹ گئے اور اس کا ذکر اس آیت میں ہے :

یوم نبطش البطشۃ الکبری (الدخان : ١٦) جسدن ہم بڑی سخت گرفت کریں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٠٢٠ سنن الترمذی رقم الحدیث، ٣٢٥٤ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ١١٨١) 

اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار کا عذاب جنگ بدر کے دن دکھا دیا جب ستر کافر قتل کئے گئے اور ستر کافر گرفتار اور بایق ذلت کے ساتھ پسپا ہو کر بھاگ گئے اور فتح مکہ کے دن کفار کا عذاب دکھایا جب کفار مکہ کو شکست فاش ہوئی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب فاتحانہ شان سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 95