أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰكُمۡ عَبَثًا وَّاَنَّكُمۡ اِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا پس تم نے یہ گمان کرلیا تھا کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کیا تھا اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جائوگے

پھر ان کو اور زیادہ جھڑکا اور ڈانٹا اور ملامت کی کہ کیا پس تم نے یہ گمان کرلیا تھا کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کیا تھا اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جائو گے، اللہ تعالیٰ نے پہلے قیامت کی صفات بیان کیں پھر قیامت کے دلائل کی طرف متوجہ کیا کہ اگر قیامت نہ ہوتی تو مطیع اور عاصی اور صدیق اور زندیق اور نیک اور بد کے درمیان امتیاز نہ ہوتا اور اس وقت اس جہان کو پیدا کرنا عبث اور فضول ہوتا اور جب تم نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے تو معلوم ہوگیا کہ اس کے سوا اور کوئی مالک اور حاکم نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فضول اور بےفائدہ چیزیں پیدا کرنے سے پانی تنزیہہ بیان فرمائی پس اللہ بلند شان والا سچا بادشاہ ہے، الملک سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام اشیاء کا مالک ہے اس کے ملک، اس کی سلطنت اور اس کی قدرت کو کبھی زوال نہیں ہے اور الحق سے مراد یہ ہے کہ ملک اور سلطنت اسی کو سزاوار اور لائق اور زیبا ہے کیونکہ ہر چیز کی اسی سے ابتداء ہے اور اسی کی طرف انتہا ہے اور وہ عرش کریم کا الاکرمین کی طرف ہے جیسے کسی کریم شخص کے گھر کے متعلق کہا جاتا ہے یہ گھر کریم ہے یعنی اس کے رہنے والے کریم ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 115