أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِىۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

کیا تمہارے سامنے میری آیتوں کی تلاوت نہیں کی جاتی تھی پھر تم ان کی تکذیب کرتے تھے

المئومنون : ١٠٥ میں فرمایا : کیا تمہارے سامنے میری آیتوں کی تلاوت نہیں کی جاتی تھی پھر تم ان کی تکذیب کرتے تھے۔

یعنی ان واضح آیات کے نزول کے باوجودتم ہٹ دھرمی سے ان کا انکار کرتے تھے اس لئے لامحالہ تم اس درد ناک عذاب کے مستحق ہوگئے ہو، اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اتخیار دیا تھا کہ وہ اس کی اطاعت کریں یا اس کی نافرمانی کریں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو اتخیار کیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعضاء میں نافرماین کے افعال پیدا کردیئے اور ان کے اختیار کی وجہ سے ان کو عذاب دیا جائے گا۔ ان آیات میں چونکہ مومنوں اور کافروں کے عمل کے وزن اور ان کے حساب کے متعلق آیات ہیں اس لئے اب ہم حساب کے متعلق احادیث پیش کر رہے ہیں۔

آخرت میں حساب کے متعلق احادیث 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اخروی سوال کی سنگینی بیان کی آپ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو اہل جاہلیت اپنی پیٹھوں پر اپنے بتوں کو اٹھائے ہوئے ائٓیں گے، ان سے ان کا رب تبارک و تعالیٰ سوال کرے گا تو وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا ! ہمارے پاس تیرا کوئی حکم نہیں پہنچا اگر تو ہمارے پاس کوئی رسول بھیجتا تو ہم تیری سب سے زیاندہ عبادت کرنے والے ہوتے، تب ان سے ان کا رب فرمائے گا یہ تو بتائو اگر میں اب تمہیں کوئی حکم دوں تو کیا تم میری اطاعت کرو گے ؟ اور ان سے پکی قسمیں لے گا پھر فرمائے گا چلو دوزخ کی آگ میں داخل ہو جائو وہ دوزخ کی طرف جائیں گے اور جب دوزخ کی آگ دیکھیں گے تو خوف زدہ ہو کر لوٹ آئیں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم اس آگ سے ڈرتے ہیں اور اس میں داخل نہیں ہوس کتے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو جائو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر وہ پہلی بار آگ میں داخل ہوجاتے تو وہ ان پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجاتی۔ کشف الاستار عن زوائد البزارج ٤ رقم الحدیث : ٣٤٣٣ مطبوعہ مئوسستہ الرسالہ بیروت ١٤٠٥ ھ)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسوس اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے بنو آدم کے اعمال پیش کئے جائیں گے اور ان کے صحائف اعمال پر مہر لگی ہوگی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس صحیفہ کو پھینک دو اور اس صحیفہ کو قبول کرلو، فرشتے کہیں گے اے رب ہم نے اس شخص کے صرف نیک عمل ہی دیکھے ہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کے یہ عمل میری ذات کے لئے نہیں تھے اور آج کے دن میں صرف اس عمل کو قبول کروں گا جو صرف میری ذات کے لئے کیا گیا ہو۔ (مسند البزار رقم الحدیث : ٣٤٣٥)

حضرت معاذ (رض) مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ بندہ اس وقت تک اللہ کے سامنے کھڑا رہے گا حتیٰ کہ وہ اس سے چار چیزوں کے متعلق سوال کرے گا، اس نے اپنی عمر کو کن چیزوں میں فنا کیا، اس نے اپنے جسم کو کن کاموں میں بوسیدہ کیا، اس نے اپنے عمل کے مطابق کیا عمل کیا اور اس نے اپنا مال کہاں سے حاصل کیا اور اس کو کس چیز میں خرچ کیا۔ (مسند البزار رقم الحدیث : ٣٤٣٧)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ظلم کی تین قسمیں ہیں ایک وہ ظلم ہے جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرمائے گا۔ دوسرا وہ ظلم ہے جس کو وہ معاف کر دے گا اور تیسرا وہظلم ہے جس کو ترک نہیں کرے گا۔ رہا وہ ظلم جس کو معاف نہیں فرمائے گا وہ شرک ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان الشرک لظلم عظیم (لقمان : ١٣) اور جس ظلم کو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا یہ وہ ظلم ہے جو بندے اپنی جانوں پر اللہ کی معصیت کر کے کرتے ہیں اور جس ظلم کو ترک نہیں فرمائیگا یہ و ظلم ہے جو بندے ایک دوسرے پر کرتے ہیں، ان کا قصاص لیا جائے گا۔ (مسند البزار رقم الحدیث : ٢٤٣٩ حافظ الہیثمی نے کہا اس کے رجال صحیح اور ثقہ ہیں مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٤٦ )

حضرت انس (رض) عنہبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن ابن آدم کے تین رجسٹر نکالے جائیں گے۔ ایک رجسٹر میں اس کے نیک اعمال ہوں گے دوسرے رجسٹر میں اس کے گناہ ہوں گے اور تیسرے رجسٹر میں اس کو اللہ کی طرف سے دی گئی نعمتیں ہوں گی، اللہ تعالیٰ اپنی چھوٹی نعمت سے فرمائے گا اس کے نیک اعمال سے اپنی قیمت میری قیمت پوری نہیں وصول ہوئی، اس کے گناہ اور نعمتیں باقی ہوں گی اور اس کے نیک اعمال ختم ہوجائیں گے تب اللہ اس بندے پر رحم فرمائے گا اور اشراد فرمائے گا اے میرے بندے میں نے تیری نیکیوں کو دگنا اور چوگنا کردیا اور تیرے گناہوں سے درگزر کرلیا۔ (مسند البزار رقم الحدیث : ٣٤٤٤ حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کی سند میں ایک راوی ضعیف ہے مجمع الزوائد ج ١ ص ٣٥٧ )

حضرت انس بن مالک (رض) عنہبیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے دن ابن آدم کو لا کر میزان کے دو پلڑوں کے درمیان کھڑا کردیا جائے گا اور اس کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر کردیا جائے گا اگر اس کا میزان بھاری ہوگا تو فرشتہ اتنی بنلد آواز سے کہے گا جس کو ساری مخلوق سنے گی کہ فلاں شخص کامیاب ہوگیا اب وہ کبھی ناکام نہیں ہوگا اور اگر اس کا میزان ہولکا ہوگا تو فرشتہ اتنی بنلد آواز سے کہے گا جس کو ساری مخلوق سنے گی کہ فلاں شخص ناکام ہوگیا اب وہ کبیھ کامیاب نہیں ہوگا۔ (مسند البز اور رقم الحدیث : ٣٤٤٥، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٣٦٤٣ اتحاف السادۃ المھرۃ رقم الحدیث : ٨٦٨٠ حافظ الہیثمی نے کہا اس کی سند میں ایک راوی ضعیف ہے۔ )

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میدان محشر میں لوگوں کو ننگے پیر، ننگے بدن اور غیر مختون جمع کیا جائے گا، حضرت عائشہ نے کہا عورتیں بھی آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! حضرت عائشہ نے کہا اور ان کی شرم گاہیں آپ نے فرمایا اے ابوبکر کی بیٹی تم کو کس چیز پر تعجب ہے ؟ حضرت عائشہ نے کہا مجھے اس چیز پر تعجب ہے کہ بعض، بعض کی طرف دیکھ رہے ہوں گے آپ نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اے ابوقحافہ کی سال تک نظر اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے، کھائیں گے نہ پئیں گے ان میں سے بعض کا پسینہ قدموں تک ہوگا اور بعض کا پسینہ پنڈلیوں تک ہوگا اور بعض کا پسینہ پیٹ تک ہوگا اور بعض کا پسینہ ان کے منہ تک ہوگا پھر اس کے بعد اللہ بندوں پر رحم فرمائے گا، پھر ملاکئہ مقربین کو حکم دے گا وہ اس کا عرش آسمانوں سے اٹھا کر زمین پر رکھ دیں گے ایسی زمین پر جس میں کسی کا خون بہایا گیا ہوگا نہ اس میں کوئی گناہ کیا گیا ہوگا وہ زمین سفید چاندی کی طرح ہوگی، پھر ملائکہ عرش کے گرد صف باندھے کھڑے ہوں گے اور وہ پلہا دن ہوگا جب کوئی آنکھ اللہ کی طرف دیکھے گی پھر ایک منادی کو حکم دیا جائے گا وہ اتنی بنلد آواز سے ندا کرے گا جس کو تمام جن اور انس سنیں گے فلاں بن فلاں کہاں ہے ؟ وہ شخص گردن اٹھا کر دیکھے گا اور اہل محشر سے نکل کر آئے گا اللہ تعالیٰ اس کا تمام لوگوں سے تعارف کرائے گا پھر کہا جائے گا اس کی نیکیاں نکالی جائیں پھر تمام اہل محشر کو اس کی نیکیاں بتائی جائیں گی پھر جب وہ شخص رب العالمین کے سامنے کھڑا ہوگا تو کہا جائے گا وہ لوگ کہاں ہیں جن پر اس نے ظلم کیا تھا، پھر ایک ایک کر کے لوگ آئیں گے پھر اس سے پوچھا جائے گا کیا تم نے اس پر یہ ظلم کیا تھا وہ کہے گا ہاں اے میرے رب ! اور یہ وہ دن ہوگا جب اس کے خلاف اس کی زبان اور اس کے ہاتھ اور اس کے پیر گواہی دیں گے اس کی نیکیاں نکال کر اس شخص کو دی جائیں گی جس پر اس نے ظلم کیا تھا جس دن کوئی دینار ہوگا نہ درہم ہوگا مگر نیکیاں لی جائیں گی اور گناہ ڈالے جائیں گے۔ اسی طرح ہوتا رہے گا اور جن پر ظلم کیا گیا تھا وہ اس کی نیکیاں لیتے رہیں گے حتیٰ کہ اس کی ایک نیکی بھی نہیں بچے گی۔ پھر وہ لوگ کھڑے ہوں گے جن کو ان کے حقوق سے کچھ بھی نہیں ملا وہ کہیں گے دوسروں نے تو اپنے حقوق پورے لے لئے اور ہم رہ گئے، ان سے کہا جائے گا جلدی نہ کرو پھر ان کے گناہ اس شخص پر ڈال دیئے جائیں گے حتیٰ کہ کوئی مظولم باقی نہیں رہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کو اسے دکھائے گا، پھر جب اس کی نیکیوں سے فراغت ہوجائے گی تو اس سے کہا جائے گا اب تم دوزخ کی طرف جائو، آج کسی پر ظلم نہیں ہوگا بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ اس دن ہر فرشتہ، ہر نبی مرسل، ہر صدیق، ہر شہید اور ہر بشر حساب کی شدت دیکھ کر یہی گمان کرے گا جس کو اللہ بچا لے اس کے سوا کسی کی نجات نہیں ہوسکتی۔ (المطالب العالیہ رقم الحدیث، ٤٦٢٦، علامہ بوصیری نے کہا اس کی سند میں ایک راوی ضعیف ہے، اتحادف السادۃ الھرۃ رقم الحدیث : ٨٦٩٢)

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 105