أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌ مِّنۡ عِبَادِىۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَـنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ‌‌ۖ‌ۚ ۞

ترجمہ:

بیشک میرے بندوں میں سے ایک گروہ یہ کہتا تھا اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے تو ہماری مغفرت فرما اور ہم پر رحم فرما اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے اچھا ہے

المئومنون : ١١١-١٠٩ میں فرمایا : بیشک میرے بندوں میں سے ایک گروہ یہ کہتاتھا اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے تو ہماری مغفرت فرما اور ہم پر رحم فرما اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے اچھا ہے۔ تو (اے کافروں) تم نے ان کا مذاق اڑایا حتی کہ اس (مشغلہ) نے تمہیں میری یاد (بھی) بھلا دی اور تم ان پر ہنسا کرتے تھے۔ بیشک میں نے ان کے صبر کی اچھی جزا دی اور بیشک وہی کامیاب ہیں۔

نیک مسلمانوں کو اچھی جزا عطا فرمانے کی وجہ 

پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو کیوں عذاب میں مبتلا کیا تھا اور اب ان آیتوں میں بتارہا ہے کہ مومنوں کو اللہ تعالیٰ نے کیوں اچھی جزا دی ہے۔

مقاتل نے کہا کہ قریش کے سردار مثلاً ابوجہل، عتبہ اور ابی بن خلف وغیرہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کا مذاق اڑاتے تھے اور حضرت بلال، حضرت خباب اور حضرت عمار اور حضرت صہیب ایسے فقراء صحابہ پر ہسنتے تھے اور ان کا مذاق اڑانے کو انہوں نے اپنا مغشلہ بنا لیا تھا، اور ان صحابہ نے ان کی ان باتوں پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آخرت کی کامیابی عطا فرمائی۔

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 109