أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ فَسۡـئَـلِ الۡعَآدِّيۡنَ ۞

ترجمہ:

وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے تھے آپ گننے والوں سے پوچھ لیجیے

انہوں نے جواب میں جو یہ کہا ہم ایک دن یا دن کا کچھہ حصہ رہے تھے تو یہ انہوں نے جھوٹ نہیں بولا ہوگا بلکہ دوزخ کے عذاب کے درد اور دہشت کی وجہ سے وہ دنیا میں اپنے قیام کی اصل اور صحیح مدت کو بھول گئے ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دوزخ میں انہوں نے عذاب میں جو وقت گزارا اور غیر متناہی مدت تک انہوں نے اس عذاب کو برداشت کرنا تھا اس کے مقابلہ میں انہوں نے دنیا میں جو وقت عیش و آرام میں گزارا تھا وہ ان کو بہت کم اور تھوڑا محسوس ہوگا۔

انہوں نے کہا آپ گننے والوں سے پوچھ لیجیے اس سے مراد کراماً کاتبین فرشتے ہیں جو ان کی گزری ہوئی زندگی کا ایک ایک عمل لکھتے رہے تھے یا مراد یہ ہے کہ ان فرشتوں سے پوچھ لیجیے جو دنیا کے ایام اور اس کی ساعات کو لکھتے رہتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان سے پوچھ لیجیے جو ان ایام کو گنتے رہتے ہیں ہم تو بھول چکے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 113