حدیث نمبر 397

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے جن کے درمیان کوئی بری بات نہ کرے تو یہ بارہ برس کی عبادت کے برابر ہوں گی ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے جسے ہم سوائے عمر ابن خثعم کی حدیث کے اور سے نہیں پہچانتے اور میں نے محمد ابن اسمعیل کو فرماتے سنا کہ وہ منکر حدیث ہے اور اسے بہت ضعیف کہا ۲؎

شرح

۱؎ اس نماز کا نام صلوۃ اوابین ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ چھ رکعتیں مغرب کی سنتوں و نفلوں کے ساتھ ہیں،بعض کہتے ہیں کہ ان کے علاوہ۔مرقاۃ نے پہلی صورت کو ترجیح دی اور فرمایامؤکدہ دو سنتیں الگ سلام سے پڑھے،باقی چار میں اختلاف ہے دو سلاموں سے پڑھے یا ایک سے۔خیال رہے کہ ان جیسی احادیث سے فضائل میں ثواب عبادت مراد ہوتا ہے نہ کہ اصل عبادت،لہذا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک بار نماز اوّابین پڑھ کر ۱۲ سال تک نماز سے بے پرواہ ہوجاؤ۔

۲؎ اس کے ضعیف ہونے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے،نیز اسے طبرانی وغیرہ نے مختلف اسنادوں سے نقل کیا جس سے اس میں قوت آگئی۔