ناصبیت و رافضیت کے درمیان راہ اعتدال

تحریر : پروفیسرعون محمد سعیدی مصطفوی بہاولپور

 

ناصبیت و رافضیت گمراہی کی دو انتہائیں ہیں. جبکہ عقیدہ اہل سنت ان کے درمیان ایک پل صراط ہے، جس سے ذرا برابر بھی ادھر ادھر ہونے والا یا تو ناصبیت کی پر خار وادی میں جا گرتا ہے یا رافضیت کی.

ناصبیت کی وادی میں گرنے والا دفاع صحابہ کے جذباتی نعرے لگاتے ہوئے گرتا ہے جبکہ رافضیت کی وادی میں گرنے والا دفاع اہل بیت کے جذباتی نعرے لگاتے ہوئے گرتا ہے.

گمراہی کی ان دونوں انتہاؤں کا سبب رطب و یابس سے بھرپور تاریخی روایات ہیں، دفاع صحابہ والا ناصبی جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دفاع کرتا ہے تو یزید اس کے گلے میں مچھلی کے کانٹے کی طرح پھنس جاتا ہے، چار و ناچار اسے دفاع صحابہ کے نام پر تاریخی روایات کے سہارے یہ کانٹا بھی نگلنا پڑتا ہے، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں بدگمان ہونا پڑتا ہے.

دفاع اہل بیت والا رافضی جب علی و فاطمہ و حسنین کا دفاع کرتا ہے تو خلفاء ثلاثہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کی طرف منسوب غلط تاریخی روایات کی وجہ سے اسے ان نفوس قدسیہ سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے.

ناصبی جب دفاع یزید کے لیے تاریخی روایات لے کے آتا ہے تو رافضی بھی بھاگم بھاگ مخالفت معاویہ میں اسی قسم کے سینکڑوں حوالے اٹھا لاتا ہے.

اگر ناصبی کو حق ہے کہ وہ تاریخی روایات کی بنیاد پر یزید کے لیے نرم گوشہ رکھے تو پھر رافضی کو بھی یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ تاریخی روایات کی بنیاد پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بد گوئی کرے.

اور اگر رافضی کو یہ حق حاصل نہیں ہے تو پھر ناصبی کو تاریخی روایات کی بنیاد پر یزید کے لیے نرم گوشہ رکھنے کا حق کس نے دیا ہے؟

اسی لیے اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ان بے ہنگم تاریخی روایات سے ہٹ کر قرآن و سنت کی مستند بنیادوں پر قائم ہے، قرآن نے صحابہ کرام کی جو عظمتیں بیان کی ہیں وہ تمام صحابہ کو پوری پوری ملیں گی.. . اور جو اہل بیت کی عظمتیں بیان کی ہیں وہ انہیں پوری پوری ملیں گی.

اہل سنت و جماعت میں ایک گروہ بڑی شدت سے مائل برافضیت ہو چکا ہے اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ و دیگر عظیم صحابہ کرام کے بارے میں یاوہ گوئی کرتا ہے…جبکہ اہل سنت میں ہی اب ایک گروہ مائل بناصبیت ہوتا پھر رہا ہے، وہ یزید کو تحفظ دینے کا خواہاں ہے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں تحفظات کا شکار ہے.

اگر عظمت صحابہ کرام کے بارے میں قرآن و سنت کی کثیر نصوص موجود ہیں تو کیا عظمت اہل بیت کے بارے میں کوئی نصوص موجود نہیں ہیں؟ جب دونوں کے لیے نصوص موجود ہیں تو پھر ادھر ادھر بھٹکنے کی بجائے ہر دو کی عظمت قائم رکھنے میں ہی ایمان کی سلامتی ہے.

امید ہے کہ یہ چند کلمات راہ اعتدال پر قائم رہنے کے لیے مفید ثابت ہوں گے اور اہل ایمان کو بھٹکنے سے محفوظ رکھیں گے.