أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فِىۡ جَهَـنَّمَ خٰلِدُوۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

اور جن کی نیکیوں کے پلے ہلکے ہوں گے تو یہی وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالا (وہ) ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

المئومنون : ١٠٥-١٠٣ میں فرمایا اور جن کی نیکیوں کے پلے ہلکے ہوں گے تو یہی وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالا (وہ) ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ آگ ان کے چہروں کو جھلتی رہے گی اور وہ اس میں بری حالت میں ہوں گے۔ کیا تمہارے سامنے میری آیات کی تلاوت نہیں کی جاتی تھی پھر تم ان کی تکذیب کرتے تھے۔

آخرت میں کفار کے چار اصواف 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اشقیاء کے حساب کا ذکر فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے چار اوصاف بیان فرمائے ہیں :

(١) انہوں نے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا، حضرت ابن عباس نے فرمایا ان کا نقصان یہ ہے کہ جنت میں کافروں کے لئے جو ٹھکانے بنائے گئے تھے وہ مومنوں کو مل جائیں گے اور ایک قول یہ ہے کہ ان کا نقصان یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دائمی عذاب سے نہیں بچا سکیں گے۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور اس میں یہ واضح دیل ہے کہ کفار جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔

(٣) آگ ان کے چہروں کو جھلستی رہے گی، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یعنی آگان پر تھپیڑے لگائے گی اور ان کے گوشت اور کھالوں کو کھاجائے گی، زجاج نے کہا لفح اور نفخ کا ایک معنی ہے لیکن نفح کی تاثیر زیادہ ہوتی ہے اور اس آیت میں کالحون کا لفظ ہے اور کلوح کا معنی یہ ہے کہ دونوں ہونٹ پھیل کر دانتوں سے دور ہوجائیں جیسے بھنی ہوئی سری ہوتی ہے، حیدث میں ہے :

حضرت ابو سعید الخدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وھم فیھا کالحون کی تفسیر میں فرمایا آگ اس کو جلا دے گی حتیٰ کہ اس کا اوپر والا ہونٹ پھیل کر سر کے وسط تک پہنچ جائے گا اور نچلا ہونٹ لٹک کر اس کی ناف کو ضرب لگائے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث، ٣١٧٦ المسند الجامع رقم الحدیث : ١٧٢٧٣)

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 103