حدیث نمبر 393

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن سائب سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور فرماتے تھے کہ یہ وہ گھڑی ہے جس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ اس گھڑی میں میرا نیک عمل چڑھے۲؎(ترمذی)

شرح

۱؎ خیال رہے کہ حضرت عبداﷲ ابن سائب صحابی بھی ہیں،تابعی بھی ہیں،جو صحابی ہیں انہوں نے ابی ابن کعب سے قرآن سیکھا ہے اور ان سے حضرت مجاہد نے،مخزومی ہیں،قریشی ہیں،مکہ مکرمہ میں رہے وہیں حضرت ابن زبیر کی شہادت سے کچھ پہلے وفات پائی غالبًا یہاں صحابی مراد ہںت۔

۲؎ حق یہ ہے کہ یہ چار سنتیں ظہر کی ہیں چونکہ فرض ظہر کچھ دیر ٹھنڈک کرکے پڑھے جاتے ہیں اور آسمان کے دروازے سورج ڈھلتے ہی کھل جاتے ہیں اس لیئے سرکار نے یہ سنتیں جلدی پڑھیں لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اس وقت ظہر کے فرض ہی کیوں نہ پڑھ لیئے۔