اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ(۲۸)

کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی (ف۷۲) اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتارا

(ف72)

بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ان لوگوں سے مراد کُفّارِ مکّہ ہیں اور وہ نعمت جس کی شکر گزاری انہوں نے نہ کی وہ اللہ کے حبیب ہیں سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ اللہ تعالٰی نے ان کے وجود سے اس امّت کو نوازا اور ان کی زیارت سراپا کرامت کی سعادت سے مشرف کیا ۔ لازم تھا کہ اس نعمتِ جلیلہ کا شکر بجا لاتے اور ان کا اِتّباع کر کے مزید کرم کے مورد ہوتے بجائے اس کے انہوں نے ناشکری کی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کیا اور اپنی قوم کو جو دین میں ان کے موافق تھے دارالہلاک میں پہنچایا ۔

جَهَنَّمَۚ-یَصْلَوْنَهَاؕ-وَ بِئْسَ الْقَرَارُ(۲۹)

وہ جو دوزخ ہے اس کے اندر جائیں گے اور کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖؕ-قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ(۳۰)

اور اللہ کے لیے برابر والے ٹھہرائے (ف۷۳) کہ اس کی راہ سے بہکاویں تم فرماؤ (ف۷۴) کچھ برت لو کہ تمہارا انجام آ گ ہے(ف۷۵)

(ف73)

یعنی بُتوں کو اس کا شریک کیا ۔

(ف74)

اے مصطفٰے ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ان کُفّار سے کہ تھوڑے دن دنیا کی خواہشات کو ۔

(ف75)

آخرت میں ۔

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ(۳۱)

میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دئیے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی (ف۷۶) نہ یارانہ (ف۷۷)

(ف76)

کہ خرید و فروخت یعنی مالی معاوضے اور فد یے سے ہی کچھ نفع اٹھایا جا سکے ۔

(ف77)

کہ اس سے نفع اٹھایا جائے بلکہ بہت سے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے ۔ اس آیت میں نفسانی و طبعی دوستی کی نفی ہے اور ایمانی دوستی جو مَحبتِ الٰہی کے سبب سے ہو وہ باقی رہے گی جیسا کہ سورۂ زخرف میں فرمایا ” اَلْاَ خِلَّاءُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ ”

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَ جَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْۚ-وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖۚ-وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ(۳۲)

اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کو پیدا کیے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے (ف۷۸) اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں (ف۷۹)

(ف78)

اور اس سے تم فائدے اٹھاؤ ۔

(ف79)

کہ ان سے کام لو ۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآىٕبَیْنِۚ-وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ(۳۳)

اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیں(ف۸۰)اور تمہارے لیے رات اور دن مسخر کیے (ف۸۱)

(ف80)

نہ تھکیں ، نہ رکیں تم ان سے نفع اٹھاتے ہو ۔

(ف81)

آرام اور کام کے لئے ۔

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُؕ-وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَاؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠(۳۴)

اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیا اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے بےشک آدمی بڑا ظالم بڑا ناشکرا ہے(ف۸۲)

(ف82)

کہ کُفر و معصیت کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کرتا ہے اور اپنے ربّ کی نعمت اور اس کے احسان کا حق نہیں مانتا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ انسان سے یہاں ابو جہل مراد ہے ۔ زُجاج کا قول ہے کہ انسان اسمِ جنس ہے اور یہاں اس سے کافِر مراد ہے ۔