اسلام کا نظریہ ہر ملک اللہ کا ہے 

حکمرانوں کی نرم پالیسی سے کافروں کو بھٹکنا ہو بھٹکیں انہیں اللہ اور رسول سے کوئی مطلب نہیں ہے،اس لئے کے سچا دین انکے پاس میں نہیں ہے اس لئے انہیں دنیا کی گرفت روک سکتی ہے اس کے علاوہ اور کسی چیز کو وہ اپنی رکاوٹ نہیں مانتے،مگر مسلمان کے لئے چاہے وہ دنیا کے کسی ملک میں ہو دنیا کا قانون اسکے لئے عارضی قانون ہے، حقیقی قانون تو اللہ اور رسول کا ہے،ہم اللہ اور رسول کے نام پر مسلم ہوئے ہیں،ہمارا ایمان ہے کہ سارا جہاں اللہ کا ہے،خالق وہی ہے،مالک وہی ہے،حکومت اسی کی ہے،قراٰن کریم کے دسویں حصہ کی آیتیں اس عقیدہ کو واضح کرتی ہیں،پھر مسلمان کے کردار میں دنیا کی حکومتوں سے فرق کیوں آئے؟مخلوق اللہ کی ہے،اس کے ساتھ کئے ہوئے ظلم کا جواب اللہ کو دینا ہے، تو ہمیں ہمہ وقت اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واتقون یا اولی الالباب اے عقل والو ! مجھی سے ڈرو،وخافونی ان کنتم موٗمنین اور مجھی سے ڈرو اگر ایمان والے ہو