أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوۡ كَظُلُمٰتٍ فِىۡ بَحۡرٍ لُّـجّـِىٍّ يَّغۡشٰٮهُ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِهٖ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِهٖ سَحَابٌ‌ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعۡضُهَا فَوۡقَ بَعۡضٍؕ اِذَاۤ اَخۡرَجَ يَدَهٗ لَمۡ يَكَدۡ يَرٰٮهَا‌ؕ وَمَنۡ لَّمۡ يَجۡعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوۡرًا فَمَا لَهٗ مِنۡ نُّوۡرٍ۞

ترجمہ:

یا (ان کے اعمال) گہرے سمندر کی تاریکیوں کی مثل ہیں جن کو موج بالائے موج ڈھانپے ہوئے ہے اس کے اوپر بادل، اس کی بعض تاریکیاں بعض سے زیادہ ہیں، جب کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو اس کو دیکھ نہ سکے اور جس کے لئے اللہ نور نہ بنائے تو اس کے لئے کوئی نور نہیں ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یا (ان کے اعمال) گہرے سمندر کی تاریکیوں کی مثل ہیں جن کو موج بالائے موج ڈھانپے ہوئے ہے، اس کی بعض تاریکیاں بعض سے زیادہ ہیں، جب کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو اس کو دیکھ نہ سکے اور جس کے لئے اللہ نور نہ بنائے تو اس کے لئے کوئی نور نہیں ہے۔ (النور : ٤٠ )

کفار کے اعمال سراب کی طرح دھوکا ہیں یا سمندر کی تاریکی کی طرح بےفیض ہیں 

یہ کفار کے اعمال کی دسوری مثال ہے، یعنی کفار کے اعمال یا سراب کی طرح ایک دھوکا ہیں یا سمندر کی گہرائی کی تاریکیوں کی مثل ہیں جن میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیات۔ الجرجانی نے کہا پہلی آیت میں کافر کے اعمال کی مثال ہے اور دوسری آیت میں کفار کے عقائد کی مثال ہے۔

اللجۃ : بہت گہرے پانی کو کہتے ہیں جس کی گہرائی کا اندازہ نہ کیا جاسکے۔

اس آیت میں فرمایا ہے : اس کی بعض تاریکیاں بعض سے زیادہ ہیں، اس سے مراد بادلوں کی تاریکی، رات کی تاریکی اور سمندر کی تاریکی ہے، سو جو شخص ان تاریکیوں کے اندر ہو اس کا پتہ نہیں چل سکتا کہ وہ کون ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد بہت زیادہ تاریکی ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ تاریکیوں سے مراد کفار کے اعمال ہیں اور اور سمندر کی گہرائی سے مراد کفار کے قلوب ہیں اور موج بالائے موج سے مراد وہ جہالت، شکوک اور اندھیرے ہیں جو کافر کے دلوں پر چھائے ہوئے ہیں اور بادلوں سے مراد ان کے دلوں کا زنگ ہے اور وہ مہر ہے جو ان کے دلوں پر لگا دی گئی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) اور دیگر نے بیان کیا کہ جس طرح جو شخص سمندر کے گہرے پانی کے اندھیروں میں ہو اس کو ہاتھ سے ہاتھ بجھائی نہیں دیتا اسی طرح کافر اپنے دل سے نور ایمان کا ادراک نہیں کرسکتا۔ 

اس کے بعد فرمایا اور جس کے لئے اللہ نور نہ بنائے اس کے لئے کوئی نور نہیں۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ جس کے لئے اللہ دین نہ بنائے اس کے لئے کوئی دین نہیں، اور جس شخص کے پاس ایسا نور نہ ہو جس سے وہ قیامت کے دن چل سکے تو وہ جنت کی ہدایت نہیں پائے گا۔ الزجاج نے کہا یہ آیت دنیا پر محمول ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ دنیا میں ہدایت نہ دے وہ ہدیات نہیں پائے گا۔

مقاتل بن سلیمان نے کہا یہ آیت عتبہ بن ربیعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، وہ زمانہ جاہلیت میں دین کی تلاش میں تھا اور ٹاٹ کے کپڑے پہنتا تھا، اس کے باوجود اس نے اسلام کا کفر کیا۔ الماوردی نے کہا یہ آیت شیبہ بن ربیعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے وہ زمانہ جاہلیت میں رہبانیت کرتا تھا، موٹے کپڑے پہنتا تھا اور دین کو تلاش کرتا تھا اس کے باوجود اس نے اسلام کا کفر کیا، علامہ قرطبی نے کہا یہ دونوں کفر پر مرے، ہوسکتا ہے کہ اس آیت سے یہ دونوں مراد ہوں۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن حجش کے متعلق نازل ہوئی ہے وہ اسلام لائے اور سر زمین حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر وہ اسلام سے مرتد ہو کر عیسائی ہوگئے۔

ثعلبی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ نے مجھے نور سے پیدا کیا اور ابوبکر کو میرے نور سے پیدا کیا اور عمر اور عائشہ کو ابوبکر کے نور سے پیدا کیا اور میری امت کے مومن مردوں کو عمر کے نور سے پیدا کیا اور میری امت کی عورتوں کو عائشہ کے نور سے پیدا کیا۔ پس جو شخص مجھ سے محبت نہ کرے اور ابوبکر، عمر اور عائشہ سے محبت نہ کرے اس کے لئے کوئی نور نہیں ہے۔ (الجامع احکام القرآن 

علامہ ابو الحسن علی بن محمد عراق المتوفی ٩٦٣ ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں :

یہ حدیث اس سند سے مروی ہے، مقبری از ابو معشر از الھیثم بن جمیل از ابوشعیب سو سی از احمد بن یوسف المسیحی از ابوہریرہ۔

ابونعیم نے کہا یہ سند باطل ہے اور ابومعشر اور الھیثم متروک ہیں، علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں لکھا یہ جھوٹ ہے، ان تینوں میں سے کسی ایک نے بھی یہ حدیث بیان نہیں کی اور میرے نزدیک یہ افٓت المسیحی کی طرف سے ہے۔ (تنزیہہ الثریعۃ المرفوعتہ ج ١ ص 337، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤٠١ ھ )

خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث کی سند موضوع ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 40