أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌ ؕ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌ ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ ؕ لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ‌ ۚ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

بیشک جن لوگوں نے (عائشہ صدیقہ پر) تہمت لگائی وہ تم میں سے ایک گروہ ہے، تم اس (تہمت) کو اپنے لے شر نہ سمجھو بلکہ وہ (مآل کے اعتبار سے) تمہارے لئے بہتر ہے، اس گروہ میں سے ہر فرد کے لئئے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا اور جس شخص نے انمیں سے اس (تمہت) میں سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے

تفسیر:

مشکل الفاظ کے معانی 

الافک : ہر وہ چیز جس کو اس کی اصل وضع سے پھیر دیا گیا ہو، وہ ہوائیں جو اپنے معمول کے خلاف الٹی چلتی ہیں………(التوبہ : ٣٠) اللہ ان کو غارت کرے وہ اعتقاد برحق سے اعراض کرکے باطل کی طرف جا رہے ہیں، جب کسی پر تہمت لگائی جائے یا اس پر بہتان تراشا جائے تو اس میں بھی حق کے خلاف باطل بات کہی جات ہے اور صدق کو چھوڑ کر کذب کو اختیار کیا جاتا ہے۔ اور سب سے بدترین تہمت وہ تھی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) پر منافقین نے لگائی تھی۔ (المفردات : ج ١ ص ٢٣، مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

العصبۃ : ایک دوسرے کی حمایت کرنے والی جماعت (المفردات ج ٢ ص ٤٣٧) اس کا اکثر اطلاق دس سے لے کر چالیس لوگوں کی جماعت پر ہوتا ہے، جن لوگوں نے تہمت لگائی تھی، وہ عبد اللہ بن ابی، زید بن رفاعہ، حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ، حضرت ام المومنین زینب بنت حجش (رض) کی بہن حمنہ بنت حجش، طلحہ بن عبید اللہ کی بیوی اور ان کے موافقین تھے۔ (تفسیر بیضاوی مع خفاجی ج ٧ ص ٢٢، دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٧ ھ)

النور :  ١١ کی مختصر تفسیر 

…………(النور : ١١)

جس شخص نے کسی بری اور بےحیائی کی بات کو پھیلانے میں جتنا حصہ لیا ہے اس کو انتا ہی گناہ ہوگا۔

والذی تولی کبرہ منھم : تہمت کو پھیلانے میں جس نے سب سے زیادہ حصہ لیا، اور وہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی تھا اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عداوت غزوہ بن المصطلق سے واپسی میں حضرت عائشہ (رض) پر حضرت صفوان بن معطل (رض) کے ساتھ بدکاری کی تہمت لگائی اور اس تہمت کو مسلمانوں اور منافقین میں پھیلا دیا۔ 

لہ عذاب عظیم : عبد اللہ بن ابی کو آخرت کے عذاب کیساتھ خاص کرلیا گیا، اور جو مسلمان اس تہمت لگانے میں ملوث ہوگئے تھے مثلاً حضرت حسان، حضرت مسطح اور حضرت حمنہ ان کی تطہیر کے لئے ان پر دنیا میں حد قذف لگائی گئی۔ قاضی بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس کی پاداش میں عبد اللہ بن ابی نفاق میں مشہور ہوگیا اور حضرت حسان نابینا ہوگئے اور ان کے دونوں ہاتھ سوکھ گئے اور حضرت مسطح بھی نابینا ہوگئے، لیکن علامہ خفاجی نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ (عنایت القاضی ج ٧ ص ٢٣ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 11