أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ‌ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی کی بات پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

تفسیر:

………(النور : ١٩)

الفاحشتہ کا معنی بےحیائی اور بدکاری ہے اور بےحیائی کی جھوٹی خبر کی اشاعت بھی بےحیائی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو عذاب الیم کا باعث فرمایا ہے، نیز اس آیت میں فرمایا مسلمانوں میں فحاشی کو پھیلانے سے محبت کرنا بھی موجب عذاب ہے، اس سے معلوم ہوا کہ دل کے افعال پر بھی عذاب ہوتا ہے، کفر اور نفاق بھی دل کا فعل ہے اور حسد کینہ اور بخل بھی دل کے افعال ہیں اور گناہ کا عزم صمیم کرنا بھی دل کا فعل ہے اور ان تمام افعال پر مواخذہ ہوتا ہے اور اور یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ گناہ کے عزم اور اس کی نیت پر مواخذہ نہیں ہوتا صرف گناہ کے عمل پر مواخذہ ہوتا ہے یہ صحیح نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 19