حدیث نمبر 413

روایت ہے حضرت عطاء سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب مکہ میں جمعہ پڑھتے تو آگے بڑھتے پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر آگے بڑھتے تو چار پڑھتے ۱؎ اور جب مدینہ میں ہوتے اور جمعہ پڑھتے تو اپنے گھر لوٹ جاتے دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد میں نہ پڑھتے ان سے پوچھا گیا توکہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کرتے تھے ۲؎(ابوداؤد)اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا کہ آپ نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں پھر اس کے بعد چار پڑھیں۔

شرح

۱؎ یعنی حضرت ابن عمر چونکہ مکہ معظمہ میں مسافر ہوتے تھے اس لیئے جمعہ کی سنتیں مسجد ہی میں ادا کرتے مگر فرق کے لیئے جگہ بدل دیتے تاکہ فرائض و نفل میں جدائی بھی ہوجائے اور مسجد کے چند مقامات گواہ بھی بن جائیں۔یہ حدیث امام ابو یوسف کی دلیل ہے کہ بعد جمعہ چھ سنت مؤکدہ ہیں مگر وہ فرماتے ہیں کہ پہلے چار پڑھے پھر دو اور یہاں ہے کہ آپ نے پہلے دو پڑھیں پھر چار۔

۲؎ یعنی سنت جمعہ مکہ معظمہ میں مسجد ہی میں پڑھتے تھے اور مدینہ منورہ میں گھر میں اور بعد جمعہ چھ رکعتیں پڑھتے تھے۔خیال رہے کہ بعد جمعہ چار سنتیں بالا تفاق مؤکدہ ہیں اور دو کے مؤکدہ ہونے میں اختلاف ہے۔تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ بعد جمعہ چار سنتیں پہلے پڑھے دو بعد میں تاکہ فرض اورسنت مؤکدہ میں فاصلہ ہوجائے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال مختلف رہے ہیں کبھی کسی طرح ادا فرمائیں،کبھی کسی طرح لہذا جائز ہر طرح ہیں صرف بہتر ہونے میں اختلاف ہے۔