علما جب چلے جاتے ہیں تو شاعر اُن کی شان میں قصیدے لکھتے ہیں ، فراق میں مرثیے پڑھتے ہیں ۔

خطیب ان کے مقام و مرتبے پر تقریریں کرتے ہیں ۔

محرر ا‌ن کی خدمات پر تحریریں لکھتے ہیں ۔

یہ سب ٹھیک ہے ، بے شک وہ نفوس خراج عقیدت کے لائق ہیں ۔

لیکن ……… کیا وجہ ہے:

جب وہ ہم میں موجود تھے تو ہم نے اپنی محفلوں میں ان کا نام تک نہ لیا !!

چلے جانے والوں کی لاکھ تعریفیں کرلیں ، لوگ اُن سے اُس طرح استفادہ نہیں کرسکتے ، جیسےزندگی میں کرتے ہیں ۔

خدا ہمیں توفیق دے تو ہم زندوں کی قدر کریں ، ان کے بھی قصیدے اور منقبتیں لکھیں ، تاکہ لوگ ان کی طرف مائل ہوکر کچھ حاصل کرسکیں ۔

کیا میں آپ سے سوال کرسکتا ہوں کہ:

آپ نے آج تک کتنے زندہ علما کی تعریف میں قصیدے لکھے ، تقریریں کیں ، اور تحریریں لکھیں ؟؟

✍️ لقمان شاہد

11-6-2020 ء

محترم لقمان شاہد صاحب کا یہ دل بر نامہ پڑھ کر چند باتیں یاد آئیں:

(1) علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ تا حین حیات اپنے رسالے جام نور کے لیے سبسکرپشن کی اپیلیں کرتے رہے، لیکن اس درویش کی مسلسل آہ و فغاں کے باوجود اس کے دوسرے بڑے مشن تو کیا پورے ہوتے، جام نور بھی پوری زندگی بار بار مرتا اور زندہ ہوتا رہا، آج جس شان سے ان کی قصیدہ خوانیاں ہوتی ہیں اور جس اہتمام کے ساتھ ان کا عرس منایا جاتا ہے، کیا یہ گمان گزرتا ہے، وقت کے ظالم پہیے نے ان کے ساتھ کیا کچھ سوتیلے سلوک روا رکھے؟

(2) سنا ہے:

قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی نے دنیا سے جاتے جاتے وصیت کی تھی: مجھے میری ماں کی قبر کے پائنتی دفن کرنا، کیوں کہ میں اپنی قوم کا مزاج پہچانتا ہوں، میرا مزار خوب سے خوب تر بنایا جا سکتا ہے، لیکن اس سے ذاتی طور پر مجھے کیا فائدہ؟ ماں کی پائنتی سے اس قدر فیض تو ملے گا کہ حدیث میں علی الاطلاق ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت سنائی گئی ہے۔

(3) کیا ہم امید کرتے ہیں ہمیں آئندہ علامہ محمد احمد مصباحی، ناظم تعلیمات: جامعہ اشرفیہ، مبارک پور جیسا سنجیدہ فکر محقق علی الاطلاق،

یا علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی، صدر المدرسین: جامعہ اشرفیہ، مبارک پور/ علامہ مفتی مطیع الرحمن مضطر پورنوی جیسے عظیم فقہا،

یا علامہ یسین اختر مصباحی، بانی: دار القلم، دہلی جیسا گہری نظر رکھنے والا آفاقی قلم کار، /علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی جیسا درد مند مفکر،

یا علامہ قمر الزماں خان اعظمی، سکریٹری جنرل: ورلڈ اسلامک مشن جیسا آفاقی نظر رکھنے والا مفکر خطیب،

یا مولانا شاکر علی نوری، امیر: سنی دعوت اسلامی جیسا درد مند داعی ہمیں دوبارہ ملے گا؟؟؟

شاید کبھی نہیں،

اگر سچ مچ نہیں تو کیا ہم نے ان حضرات کی کما حقہ قدر آشنائی کی؟ ان سے ان کا مشن پوچھا؟ ان حضرات کی مدح سرائی کرنے کے علاوہ بھی ان سے قربت کی کوشش کی؟

اور

کیا نئے عہد کی نئی نسل میں بھی کسی محمد احمد مصباحی کی تراش کی، کسی نظام الدین رضوی کی تلاش کی، کسی قمر الزماں اور کسی یسین اختر مصباحی کو پروان چڑھایا؟؟؟

خالد ایوب مصباحی شیرانی

چیرمین: تحریک علمائے ہند، جے پور