أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًاۙ وَّقَالُوۡا هٰذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ‏ ۞

ترجمہ:

جب تم نے اس (تہمت) کو سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنوں کے متعلق نیک گمان کیوں نہیں کیا اور یہ کیوں نہیں کہا کہ یہ تو کھلا ہوا بہتان ہے

تفسیر:

…………(النور : ١٢)

پہلے صیغہ غائب کے ساتھ مسلمانوں سے کلام فرمایا تھا، اور اب زیادہ زجرو توبیخ کرنے کے لئے صیغہ خطاب کے ساتھ کلام فرمایا اور اس میں یہ خبر دی کہ یمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان، مسلمانوں کے ساتھ نیک گمان کریں اور ان پر طعن وتشنیع کرنے سے باز رہیں، اور جو لوگ حضرت عائشہ (رض) اور حضرت صفوان پر تہمت لگا رہے تھے ان کی تہمت کو دور فمرایا۔ 

وقالو اھذا فک مبین : یعنی مسلمانوں کو یہ چاہیے تھے کہ جب انہوں نے تہمت کی یہ خبر سنی تھی تو وہ فوراً کہتے کہ یہ کھلی ہوئی تہمت اور نرابہتان ہے۔ عام مسلمان کے لئے بھی ایسا ہی کہنا چاہیے خصوصاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ اور تمام مسلمانوں کی ماں کے متعلق تو ضرور اور لازماً ایسا کہنا چاہیے تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 12