أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَعۡمَالُهُمۡ كَسَرَابٍۢ بِقِيۡعَةٍ يَّحۡسَبُهُ الظَّمۡاٰنُ مَآءً ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡـئًـا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ فَوَفّٰٮهُ حِسَابَهٗ‌ ؕ وَاللّٰهُ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ ۞

ترجمہ:

اور کافروں کے اعمال ہموار زمین میں چمکتی ہئی ریت کی مثل ہیں جس کو پیاسا دور سے پانی گمان کرتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ اس کے قریب پہنچتا ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں پاتا اور وہ اللہ کو اپنے قریب پاتا ہے جو اس کو اس کا پورا حساب چکا دیتا ہے اور اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کافروں کے اعمال ہموار زمین میں چمکتی ہوئی ریت کی مثل ہیں جس کو پیاسا دور سے پانی گمان کرتا ہے، حتی کہ جب وہ اس کے قریب پہنچتا ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں پاتا اور وہ اللہ کو اپنے قریب پاتا ہے جو اس کو اس کا پورا حساب چکا دیتا ہے اور اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ (النور : ٣٩)

سراب اور القیعۃ کا معنی اور شان نزول 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اعمال کی مثال بیان فرمائی تھی اور اس آیت میں کافروں کے اعمال کی مثال بیان فرمائی ہے، مقاتل نے کہا یہ آیت شیبہ بن ربیعہ بن عبد شمس کے متعلق نازل ہوئی ہے اس نے دین کی طلب میں رہبانیت اختیار کی اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو وہ کافر ہوگیا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٢ ص ٢٦٢ )

ابن قتیبہ نے کہا دوپہر کے وقت ریگستان میں چمکتی ہوئی ریت پانی کی طرح نظر آتی ہے اس کو سراب کہتے ہیں، الزجاج نے کہا القیعۃ قاع کی جمع ہے جیسے چجیرۃ جار کی جمع ہے اور القیعۃ اور القاع ایسی ہموار زمین کو کہتے ہیں جس میں کوئی روئیدگی اور سبزہ نہ ہ۔ پس جو شخص ایسے کسی ریگستان میں سرف کرتا ہے تو اس کو دور سے چمکتی ہوئی ریت پانی معصوم ہوتی ہے اور جب وہ اس کے قریب پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہاں کوئی پانی نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ کافر یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے ہاں ان کو نفع پہنچائیں گے لیکن جب وہ آخرت میں پہنچیں گے تو ان کے اعمال ان کو کوئی نفع نہیں دے سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اعمال ان کے لئے باعث عذاب ہوں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 39