أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ بُيُوۡتِكُمۡ حَتّٰى تَسۡتَاۡنِسُوۡا وَتُسَلِّمُوۡا عَلٰٓى اَهۡلِهَا ‌ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کرلو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کرلو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ۔ اور اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پائو تو ان میں داخل نہ ہو، حتیٰ کہ تمہیں اجازت دے دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جائو تو تم لوٹ جائو یہ لوٹ جانا تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کا خوب جاننے والا ہے ۔ (النور : ٢٨۔ ٢٧ )

بغیر اجازت گھروں میں داخلہ کی اور دیگر آداب کے متعلق احادیث اور آثار 

اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر یہ کرم فرمایا کہ ان کے دلوں میں رہنے کے لیے گھر بنانے کا خیال القا کیا اور یہ کہ وہ اپنے گھروں کو لوگوں سے مستور رکھیں اور ان کو اپنے گھروں میں رہائش کا سامان فراہم کرنے کی توفیق دی اور ایسے احکام شرعیہ نافذ کیے کہ کوئی شخص دوسرے کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل نہ ہوتا کہ اس کی مستور خواتین اور اس کا قیمتی سازو سامان اور اس کی پوشیدہ چیزیں اور مخفی خزانے دوسروں سے محفوظ رہ سکیں۔

اس آیت میں تسانسوا کا لفظ ہے اس کا لغوی معنی ہے حتی کہ تم مانوس ہو جائو اور اس آیت میں یہ لفظ تستاذنوا کے معنی میں ہے کیوں کہ جب کوئی شخص اجازت لینے کے بعد کسی کے گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہ گھروالوں سے مانوس ہوجاتا ہے۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عدی بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ میں اپنے گھر میں اس حال میں ہوتی ہوں کہ اس حال میں میں یہ نہیں چاہتی کہ کوئی مجھے دیکھے خواہ میرا والد ہو یا میرا بیٹا ہو اور ہمارے گھر میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں اور میں ایسے حال میں ہوتی ہوں تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٩٦٢٠ )

عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ جب تمہارے بچے بالغ ہوجائیں تو وہ اجازت طلب کریں ابن جریح نے کہا میں نے عطاء سے پوچھا کیا کسی شخص پر یہ واجب ہے کہ وہ اپنی ماں اور محارم کے پاس جانے کے لیے بھی اجازت طلب کرے، انہوں نے کہاں ہاں عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کیا کوئی شخص اپنی ماں کے پاس جاتے وقت بھی اجازت طلب کرے ؟ آپ نے فرمایا : اس نے کہا میرے علاوہ اس کا اور کوئی خدمت گار نہیں ہے، کیا میں پھر بھی داخل ہونے کے لیے اجازت طلب کروں ؟ آپ نے اس سے پوچھا کیا تم اس کو برہنہ دیکھنا پسند کرو گے اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا پھر تم اس سے اجازت لے کر داخل ہو۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٩٦٢٤ )

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں انصار کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) خوف زدہ حالت میں آئے انہوں نے کہا میں نے حضرت عمر (رض) سے تین مرتبہ اجازت طلب کی مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں واپس آگیا، حضرت عمر نے کہا تم کیوں چلے گئے تھے میں نے کہا میں نے تین مرتبہ اجازت طلب کی تھی مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں واپس چلا گیا، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اس کو اجازت نہ دی جائے تو وہ واپس چلا جائے حضرت عمر نے کہا اللہ کی قسم تم ضرور اس حدیث پر کوئی گواہی پیش کرو گے، پس کیا تم میں سے کوئی شخص ہے جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حدیث سنی ؟ حضرت ابی بن کعب نے کہا اللہ کی قسم مسلمانوں میں سے سب سے کم عمر شخص اس حدیث کی شہادت دے گا، حضرت ابو سعید خدری نے کہا میں سب سے کم عمر تھا ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور میں نے حضرت عمر کو خبر دی کہ بیشک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح فرمایا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٢٤٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٥٣، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥١٨٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٦٢٩٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٠٦، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٤٢٣، مسند احمد رقم الحدیث : ١٩٨٤٠، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٦٣٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٨١٠)

تین دفعہ سلام کرنے کا اس لیے حکم دیا ہے کہ جب تین مرتبہ سلام کرنے کے بعد گھر والا اندر آنے کے لیے نہ کہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر والا اس کو بلانا نہیں چاہتا یا ممکن ہے اس کو کوئی ایسا عذر ہو جس کی وجہ سے وہ سلام کا جواب نہ دے سکے اور اس کو بلا نہ سکے۔ ربعی بیان کرتے ہیں کہ بنو عامر کے ایک شخص نے بتایا کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گھر میں آنے کی اجازت طلب کی اور یہ کہا کہ میں اندر آجائوں ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خادم سے فرمایا جائو اس کو اجازت طلب کرنے کا طریقہ سکھائو، اور اس سے کہو کہ یوں کہے : السلام علیکم کیا میں داخل ہو جائوں ؟ اس شخص نے یہ سن کر کہا : السلام علیکم کیا میں داخل ہو جائوں ؟ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اجازت دی اور وہ داخل ہوگیا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥١٧٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ)

قیس بن سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کے لیے آئے اور آپ نے فرمایا : السلام علیکم و رحمۃ اللہ حضرت سعد (رض) نے بہت آہستہ سے جواب دیا، قیس کہتے ہیں میں نے حضرت سعد سے پوچھا کیا آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اجازت نہیں دیتے ! انہوں نے کہا رہنے دو وہ ہم کو زیادہ دفعہ سلام کریں گے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : السلام علیکم و رحمۃ اللہ حضرت سعد نے پھر بہت آہستہ جواب دیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : السلام علیکم و رحمتہ اللہ پھر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹ گئے اور سعد آپ کے پیچھے گئے، اور کہا یا رسول اللہ میں نے آپ کا سلام سن لیا تھا اور آپ کو قصداً آہستہ جواب دیا تھا تاکہ آپ زیادہ بار سلام کریں تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ چلے گئے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥١٨٥، بیروت ١٤١٤ ھ)

جب کوئی شخص کسی کا دروازہ کھٹکھٹائے اور پوچھا جائے کہ کون ہے ؟ تو یہ نہ کہے کہ میں ہوں بلکہ اپنا نام بتائے۔

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے قرض کے سلسلہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا پس میں نے دروازہ کھٹکھٹایا آپ نے فرمایا کون ہے ؟ میں نے کہا میں ہوں، آپ نے فرمایا میں میں گویا آپ نے اس کا جواب کو مکروہ قرار دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٢٥٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٥٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٦٣٨، مسند احمد رقم الحدیث : ١٤٤١١)

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ حضرت عمر بن الخطاب کے پاس گئے اور کہا السلام علیکم یہ عبداللہ بن قیس ہیں حضرت عمر نے اجازت نہیں دی، انہوں نے دوبارہ کہا السلام علیکم یہ ابو موسیٰ ہے پھر کہا السلام علیکم یہ الاشعری ہے ! پھر واپس چلے گئے حضرت عمر نے کہا ان کو میرے پاس واپس لائو ان کو واپس لایا گیا وہ آگئے، پوچھا اے ابو موسیٰ تم کیوں واپس چلے گئے ؟ ہم کام میں مشغول تھے، انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تم تین مرتبہ اجازت طلب کرو، اگر اجازت مل جائے تو فبہار ورنہ واپس چلے جائو، حضرت عمر نے کہا تم اس حدیث پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث بلا تکرار : ٢١٥٣، الرقم المسلسل : ٥٥٢٦، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥١٨١)

اگر کسی کے گھر کا دروازہ بند ہو تو اس کی جھریوں سے جھانکنا ممنوع ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر کوئی شخص بغیر اجازت کے تمہارے گھر میں جھانکے اور تم لاٹھی سے اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٠٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٥٨، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٨٦١، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٣١١)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں۔

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر گھر کا دروازہ بند ہو تو اس کی جھریوں سے اندر جھانکنا ممنوع ہے اور اگر گھر والے نے جھانکنے والے کی آنکھ تیر یا کسی لکڑی سے پھوڑ دی تو اس پر قصاص یا دیت نہیں ہے، فقہاء مالکیہ نے اس صورت میں قصاص لازم کیا ہے اور کہا ہے کہ جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑنا جائز نہیں ہے اور اس حدیث کو انہوں نے تلغیظ اور ترہیت پر محمول کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ معصیت کو معصیت سے دفع کرنا جائز نہیں ہے، جمہور نے اس کے جواب میں کہا کسی کے گھر میں جھانکنا معصیت ہے اور جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑنا معصیت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت دی ہے، جیسے کوئی شخص کسی کو قتل کرنے کے لیے اس پر حملہ کرے تو مدافعت میں اس کو قتل کرنا جائز ہے اور معصیت نہیں ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں جھانک کر کسی کی بیوی یا بیٹی کا چہرہ دیکھے تو وہ اس پر سخت مشعل ہوتا ہے ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے مباشرت کر رہا ہو وہ یا اس کی بیوی برہنہ ہو اس لیے جھانکنے والا اس سزا کا مستحق ہے، اور اگر گھر والے کی اپنی تقصیر ہو کہ اس نے دروازہ بند نہیں کیا، کھلا چھوڑ دیا پھر کسی نے ان کی طرف دیکھا تو پھر اس کی آنکھ پھوڑنا جائز نہیں اور اگر اس نے کھلے دروازے سے قصداً دیکھا تو اس میں دو قول ہیں صحیح یہ ہے کہ اب بھی دیکھنے والے کی آنکھ پھوڑنا جائز نہیں ہے اور اگر کوئی شخص اپنے گھر کی چھت سے دوسروں کے گھروں میں جھانکے تو اس کا بھی یہی حکم ہے اور اس میں فقہا کا اختلاف ہے۔ (فتح الباری ج ١٤ ص ٢٣٩۔ ٢٣٨، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٢٠ ھ)

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٤٤ ھ لکھتے ہیں :

جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑنے کی اجازت اس صورت کے ساتھ مخصوص ہے جب وہ قصداً جھانکے، اور اگر اس کی اتفاقاً نظر پڑجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس حدیث سے ان فقہاء نے استدلال کیا ہے جو اس صورت میں آنکھ پھوڑنے پر قصاص لازم نہیں کرتے اور اس کے خون کو ضائع قرار دیتے ہیں اور اس حدیث میں اس کا جواز ہے اور کسی ہلکی چیز سے اس کو مارنا چاہیے، ایک قول یہ ہے کہ یہ حدیث تہدید دھمکانے اور تغلیظ پر محمول ہے اس میں اختلاف ہے کہ آیا خبردار کرنے سے پہلے آنکھ پھوڑنا جائز ہے یا نہیں ؟ صحیح یہ ہے کہ پھر بھی جائز ہے۔ (عمدۃ القاری جز ٢٢ ص ٢٣٩، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر ١٣٤٨ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 27