وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ(۳۵)

اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اِس شہر (ف۸۳) کو امان والا کردے (ف۸۴) اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا (ف۸۵)

(ف83)

مکّۂ مکرّمہ ۔

(ف84)

کہ قربِ قیامت دنیا کے ویران ہونے کے وقت تک یہ ویرانی سے محفوظ رہے یا اس شہر والے امن میں ہوں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کی یہ دعا مستجاب ہوئی ، اللہ تعالٰی نے مکّۂ مکرّمہ کو ویران ہونے سے امن دی اور کوئی بھی اس کے ویران کرنے پر قادر نہ ہو سکا اور اس کو اللہ تعالٰی نے حرم بنایا کہ اس میں نہ کسی انسان کا خون بہایا جائے ، نہ کسی پر ظلم کیا جائے ، نہ وہاں شکار مارا جائے ، نہ سبزہ کاٹا جائے ۔

(ف85)

انبیاء علیہم السلام بُت پرستی اور تمام گناہوں سے معصوم ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کا یہ دعا کرنا بارگاہِ الٰہی میں تواضُع و اظہارِ احتیاج کے لئے ہے کہ باوجودیکہ تو نے اپنے کرم سے معصوم کیا لیکن ہم تیرے فضل و رحمت کی طرف دستِ احتیاج دراز رکھتے ہیں ۔

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۶)

اے میرے رب بےشک بتوں نے بہت لوگ بہکادئیے (ف۸۶) تو جس نے میرا ساتھ دیا (ف۸۷) وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بےشک تو بخشنے والا مہربان ہے (ف۸۸)

(ف86)

یعنی ان کی گمراہی کا سبب ہوئے کہ وہ انہیں پوجنے لگے ۔

(ف87)

اور میرے عقیدے و دین پر رہا ۔

(ف88)

چاہے تو اسے ہدایت کرے اور توفیقِ توبہ عطا فرمائے ۔

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِۙ -رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ(۳۷)

اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس (ف۸۹) اے ہمارے رب اس لیے کہ وہ (ف۹۰) نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے (ف۹۱) اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے (ف۹۲) شاید وہ احسان مانیں

(ف89)

یعنی اس وادی میں جہاں اب مکّۂ مکرّمہ ہے اور ذُرّیَّت سے مراد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہیں ، آپ سر زمینِ شام میں حضرت ہاجرہ کے بطنِ پاک سے پیدا ہوئے ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کی بیوی حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہ تھی اس وجہ سے انہیں رشک پیدا ہوا اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ ہاجرہ اور ان کے بیٹے کو میرے پاس سے جدا کر دیجئے ۔ حکمتِ الٰہی نے یہ ایک سبب پیدا کیا تھا چنانچہ وحی آئی کہ آپ حضرت ہاجرہ و اسمٰعیل کو اس سر زمین میں لے جائیں (جہاں اب مکّۂ مکرّمہ ہے ) آپ ان دونوں کو اپنے ساتھ براق پر سوارکر کے شام سے سر زمینِ حرم میں لائے اور کعبۂ مقدسہ کے نزدیک اتارا ، یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی ، نہ کوئی چشمہ نہ پانی ، ایک توشہ دان میں کھجوریں اور ایک برتن میں پانی انہیں دے کر آپ واپس ہوئے اور مڑ کر ان کی طرف نہ دیکھا ، حضرت ہاجرہ والدۂ اسمٰعیل نے عرض کیا کہ آپ کہاں جاتے ہیں اور ہمیں اس وادی میں بے انیس و رفیق چھوڑے جاتے ہیں لیکن آپ نے اس کا کچھ جواب نہ دیا اورا س کی طرف التفات نہ فرمایا ، حضرت ہاجرہ نے چند مرتبہ یہی عرض کیا اور جواب نہ پایا تو کہا کہ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، اس وقت انہیں اطمینان ہوا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام چلے گئے اور انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی جو آیت میں مذکور ہے ۔ حضرت ہاجرہ اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو دودھ پلانے لگیں جب وہ پانی ختم ہو گیا اور پیاس کی شدّت ہوئی اور صاحب زادے کا حَلق شریف بھی پیاس سے خشک ہو گیا تو آپ پانی کی جستجو یا آبادی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑیں ، ایسا سات مرتبہ ہوا یہاں تک کہ فرشتے کے پر مارنے سے یا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے قدم مبارک سے اس خشک زمین میں ایک چشمہ (زمزم) نمودار ہوا ۔ آیت میں حرمت والے گھر سے بیت اللہ مراد ہے جو طوفانِ نوح سے پہلے کعبۂ مقدسہ کی جگہ تھا اور طوفان کے وقت آسمان پر اٹھا لیا گیا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ آپ کے آ گ میں ڈالے جانے کے بعد ہوا ، آ گ کے واقعہ میں آپ نے دعا نہ فرمائی تھی اور اس واقعہ میں دعا کی اور تضرُّع کیا ۔ اللہ تعالٰی کی کارسازی پر اعتماد کر کے دعا نہ کرنا بھی توکُّل اور بہتر ہے لیکن مقامِ دعا اس سے بھی افضل ہے تو حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کا اس آخر واقعہ میں دعا فرمانا اس لئے ہے کہ آپ مدارجِ کمال میں دمبدم ترقی پر ہیں ۔

(ف90)

یعنی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور ان کی اولاد اسں وادیٔ بے زراعت میں تیرے ذکر و عبادت میں مشغول ہوں اور تیرے بیت حرام کے پاس ۔

(ف91)

اطراف و بلاد سے یہاں آئیں اور ان کے قلوب اس مکانِ طاہر کی شوقِ زیارت میں کھینچیں ۔ اس میں ایمانداروں کے لئے یہ دعا ہے کہ انہیں بیت اللہ کا حج میسّر آئے اور اپنی یہاں رہنے والی ذُرِّیَّت کے لئے یہ کہ وہ زیارت کے لئے آنے والوں سے منتفِع ہوتے رہیں ، غرض یہ دعا دینی دنیوی برکات پر مشتمل ہے ۔ حضرت کی دعا قبول ہوئی اور قبیلۂ جرہم نے اس طرف سے گزرتے ہوئے ایک پرند دیکھا تو انہیں تعجب ہوا کہ بیابان میں پرندہ کیسا ، شاید کہیں چشمہ نمودار ہوا ، جستجو کی تو دیکھا کہ زمزم شریف میں پانی ہے یہ دیکھ کر ان لوگوں نے حضرت ہاجرہ سے وہاں بسنے کی اجازت چاہی ، انہوں نے اس شرط سے اجازت دی کہ پانی میں تمہارا حق نہ ہوگا وہ لوگ وہاں بسے اور حضرت اسمٰعیل علیہ الصلٰوۃ و السلام جوان ہوئے تو ان لوگوں نے آپ کے صلاح و تقوٰی کو دیکھ کر اپنے خاندان میں آپ کی شادی کر دی اور حضرت ہاجرہ کا وصال ہو گیا اس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کی یہ دعا پوری ہوئی اور آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا ۔

(ف92)

اسی کا ثمرہ ہے کہ فصولِ مختلفہ ربیع و خریف و صیف و شتاء کے میوے وہاں بیک وقت موجود ملتے ہیں ۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُؕ- وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ(۳۸)

اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جوظاہر کرتے اور اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں نہ آسمان میں (ف۹۳)

(ف93)

حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ایک اور فرزند کی دعا کی تھی اللہ تعالٰی نے قبول فرمائی تو آپ نے اس کا شکر ادا کیا اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَؕ- اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۹)

سب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے بوڑھاپے میں اسماعیل و اسحٰق دئیے بےشک میرا رب دعا سننے والا ہے

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ ﳓ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ(۴۰)

اے میرے رب مجھے نماز کا قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو (ف۹۴) اے ہمارے رب او رمیری دعا سن لے

(ف94)

کیونکہ بعض کی نسبت تو آپ کو باعلامِ الٰہی معلوم تھا کہ کافِر ہوں گے اس لئے بعض ذُرِّیَّت کے واسطے نمازوں کی پابندی و محافظت کی دعا کی ۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠(۴۱)

اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (ف۹۵) اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا

(ف95)

بشرطِ ایمان یا ماں باپ سے حضرت آدم و حوّا مراد ہیں ۔