قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنۡۢبِئْہُمۡ بِاَسْمَآئِہِمْ ۚ فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمْ بِاَسْمَآئِہِمْ ۙ قَالَ اَ لَمْ اَ قُلۡ لَّکُمْ اِنِّیۡۤ اَعْلَمُ غَیۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِۙ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوۡنَ وَمَا کُنۡتُمْ تَکْتُمُوۡنَ﴿۳۳﴾

ترجمۂ کنزالایمان:فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادیئے فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ۔

ترجمۂ کنزالعرفان:(پھر اللہ نے)فرمایا: اے آدم!تم انہیں ان اشیاء کے نام بتادو۔ تو جب آدم نے انہیں ان اشیاء کے نام بتادیئے تو(اللہ نے)فرمایا :(اے فرشتو!)کیا میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔

{اَعْلَمُ مَا تُبْدُوۡنَ وَمَا کُنۡتُمْ تَکْتُمُوۡنَ:میں تمہاری ظاہری و پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں۔} فرشتوں نے جو بات ظاہر کی تھی وہ یہ تھی کہ انسان فساد انگیزی اور خون ریزی کرے گا اورجو بات چھپائی تھی وہ یہ تھی کہ خلافت کے مستحق وہ خود ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ علم و فضل والی کوئی مخلوق پیدا نہ فرمائے گا۔آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فرشتوں کے علوم و کمالات میں زیادتی ہوتی ہے۔ (بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۳، ۱/۲۹۰-۲۹۱)