اللہ کی قدرت کو نہ بھولو

جہاں اللہ نے یہ اظہار فرمایا کہ نر اور مادہ کی پیدائش اللہ کی چاہت پر موقوف ہے،اس میں کسی کا اپنا دخل نہیں ہے،وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے،اس کا ذکر آیت کے حوالے سے ہو چکا،مگر یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ نے اس آیت کے ابتدائی کلمات یہ نازل فرمائے للہ ملک السمٰوٰت والارض یخلق ما یشآء آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے،ابتدائی کلمات اسی بات کو واضح کر رہے ہیں کہ کوئی بھی کام کرتے ہوئے تمہاری نظر دنیا اور اس کے لچکدار قانون پر نہیں ہونی چاہیئے بلکہ تمہاری نظر اللہ تبارک وتعالیٰ کے قانون پر ہونی چاہیئے کہ حکومتیں کسی کی نہیں اسی کی ہیں،پیدائش کا سلسلہ اسی نے قائم فرمایا ہے،اسکا پورا اختیار اسی کا اپنا ہے ،پیدا ہونے والے کا اپنے نر اور مادہ ہونے میں کوئی دخل نہیں ہے ،پھر تمہارا اسکے خلاف ورزی کرنا در حقیقت اللہ کیی چاہت کے خلاف جانا ہے ،آیت کی ابتدائی کلمات دماغ کو غلط ذہنیت سے محفاظ رکھنے کے لئے ہے ،اس پر ہمنے توجہ نہ رکھی اس لئے ہمارے ماحول میں خرابیاں آرہی ہیں،اللہ کی بادشاھت پر توجہ رکھنے والے خلاف ورزی نہیں کرتے

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں فرمایا انہ علیم قدیر بیشک اللہ علم وقدرت والا ہے،یعنی اللہ کسی کو لڑکا بناتا ہے تو اس کی قدرت کے اظھار کے ساتھ یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ جانتا ہے اسنے اسے لڑکا کیوں بنایا اور کسی کو لڑکی بنایا تو اسکی قدرت کاملہ کے اظھار کے ساتھ یہ واضح کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اسنے اسے لڑکی کیوں بنایا،جب آپکے پاس وہ علم نہیں تو اپنی مرضی سے ایک کو اچھا سمجھنا اور دوسرے کو برا سمجھنا اپنے تخمینہ سے بے مطلب بات ہے،اور اسکا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ جو کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کو اسکا علم ہے اور اللہ تعالیٰ حکم عدولی کرنے والے کو گرفتار کرنے پر قادر ہے یہ اسکی مرضی کہ اس دنیا میں بدلہ دے یا اسکی سزا کو آخرت تک موقوف رکھے،نہ تمہارا عمل اس کے علم سے باہر اور نہ تم اسکی قدرت سے خارج،کام کرنے سے پہلے انجام پر نظر کرلو کہ تم کس کی حکم عدولی کرنے جا رہے ہو،یعنی علیم قدیر فرماکر اس معاملہ میں بیجا مداخلت کرنے سے روک دیا گیا ہے