أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ‌ؕ قَدۡ يَعۡلَمُ مَاۤ اَنۡـتُمۡ عَلَيۡهِؕ وَيَوۡمَ يُرۡجَعُوۡنَ اِلَيۡهِ فَيُنَـبِّـئُـهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ۞

ترجمہ:

سنو بیشک اللہ ہی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے، اللہ کو خوب علم ہے تم جس حال میں ہو، اور جس دن وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ تو وہ ان کے کئے ہوئے سب کاموں کی خبر دے گا اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سنو بیشک اللہ ہی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے، اللہ کو خوب علم ہے تم جس حال میں ہو، اور جس دن وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ ان کے کئے ہوئے سب کاموں کی خبر دے گا، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ (النور : ٦٤ )

اللہ تعالیٰ کے خالق اور مستحق عبادت ہونے پر دلیل 

الوہیت کا مدار دو چیزوں پر ہے، علم پر اور قدرت پر۔ ضروری ہے کہ خدا کو اپنی تمام مخلوق کا علم ہو، اگر اس کو علم نہ ہو تو اس کو پتا نہیں چلے گا کہ اس کی مخلوق اس کے احکام پر عمل کر رہی ہے یا نہیں کر رہی، اور اگر اس کو اپنی پوری مخلوق کا علم ہو اور ان پر قدرت نہ ہو تو اس کی مخلوق میں سے جو اس کی نافرمانی کرے تو وہ ان سے مواخذہ اور ان پر گرفت نہیں کرسکتا، اس لئے مخلوق کی فرماں برداری کرنے پر ان کو جزا اور انعام دینے کے لئے اور ان کی نافرمانی کرنے پر ان کو سزا اور عذاب دینے کے لئے ضروری ہے کہ تمام مخلوق کا علم بھی ہو اور ان پر قدرت بھی ہو۔ اس آیت کے پہلے جز میں فرمایا کہ تمام آسمانوں اور زینوں کے درمیان جو کچھ ہے سب اللہ کی ملکیت میں ہے، اس میں تمام مخلوق پر قدرت کی طرف اشارہ ہے اور دور سے جز میں فرمایا اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، اس میں تمام مخلوق کے علم کی تصریح ہے، اور جس کو تمام کائنات پر قدرت ہو اور جس کو تمام کائنات کا علم ہو وہی اس لائق ہے کہ اس کو تمام کائنات کا خدا، خالق، مدبر اور سب کی عبادتوں کا مستحق قرار دی جائے اور تسلیم کیا جائے اور اسی کی خدائی پر ایمان لایا جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 64