ستّر کی شفاعت

اصبہانی نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی جس نے کامل وضو کیا پھر حجراسود کے پاس بوسہ دینے کو آیا وہ رحمت میں داخل ہوا پھر جب بوسہ دیا اور یہ پڑھا’’ بِسْمِ اللّٰہ ِوَاللّٰہُ اَکْبَرُاَشَہَدُاَنْ لَا اٖلٰہَ الَّا اللّٰہ وَحدَہٗ لاَشَریْکَ لَہٗ واَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُہٗ وَرَسُولُہ‘‘اسے رحمت نے ڈھانک لیا پھر جب بیت اللہ کا طواف کیا تو ہر قدم کے بدلے ستر ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور ستر ہزار گناہ مٹادئے جائیں گے اور ستر ہزار درجات بلند کئے جائیں گے اورطواف کرنے والا اپنے گھروالوں میں سے ستّر کی شفاعت کرے گا پھر جب مقام ابراہیم پر آیااور وہاں دورکعت نماز طلب ثواب کی نیت سے پڑھی تو اس کے لئے اولاد اسمٰعیل علیہ السلام میں سے چارغلام آزاد کرنے کا ثواب لکھاجائے گا اور گناہوں سے ایسا نکل جائے گاجیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔