حکایت نمبر:333 سعیدوشقی کی پہچان کا انوکھا طریقہ

حضرتِ سیِّدُنا عبید اللہ اَحلافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی سے منقول ہے: بنی اسرائیل میں جب کوئی قاضی (یعنی جج)مرجاتا تو وہ اُسے بڑے کمرے میں چالیس سال تک رکھتے ۔ اس دوران اگر اس کا جسم گل سڑ جا تاتو وہ سمجھتے کہ اس نے ضرور کسی فیصلے میں ناانصافی اور ظلم وستم سے کام لیا ہے اسی لئے اس کا جسم خراب ہوگیا ۔ جب ایک عادل قاضی کا انتقال ہو ا توحسب ِطریقہ انہوں نے میت کو ایک کمرے میں رکھ دیا۔ کچھ عرصہ بعد اس کمرے کی دیکھ بھال پر مامور نگران جب کمرے میں آیا تو خادم کمرے کی صفائی کر رہا تھا کہ اچانک اس کے جھاڑو کا ایک تنکا میت کے کان میں لگا ، کان سے پیپ اور خون بہنے لگا ۔جب لوگوں کو یہ بات بتائی گئی تو وہ بڑے پریشان ہوئے کیونکہ وہ قاضی بظاہر بہت عادل وصالح تھا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس دور کے نبی علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ” میرا یہ بندہ واقعی عدل وانصاف پسند تھا ، لیکن ایک مرتبہ اس کے پاس دو شخص اپنا فیصلہ کروانے آئے تو ایک شخص کی بات اس نے زیادہ توجہ سے سنی اور دوسرے کی طر ف کچھ کم تو جہ دی اسی لئے ہم نے اسے یہ سزا دی ہے۔”

اے ہمارے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! ہم پر رحم وکرم فرما، تیرا عذاب سہنے کی ہم میں طاقت نہیں ۔ ہمارے بدن جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کیسے برداشت کریں گے۔اے ہمارے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! ہماری خطاؤں سے در گزر فرما، ہمیں متقی و پرہیز گار، والدین کا فرمانبردار اور سچا پکا عاشقِ رسول بنا ، دنیا و آخرت میں اپنی ناراضگی سے بچا ۔ ہم سے سدا کے لئے راضی ہوجا۔اے ہمارے مالک! تیری قسم! اگر تو ہم سے ناراض ہوگیا تو ہم تباہ وبر باد ہوجائیں گے پھر جہنم کی وہ بھڑکتی ہوئی آگ جس کے بارے میں قرآنِ پاک میں فرمایاجارہا ہے :

الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْـِٕدَۃِ ؕ﴿7﴾

ترجمۂ کنزالایمان:وہ جودلوں پرچڑھ جائے گی۔(پ30،الہمزہ:7)

(اے ہمارے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! کرم والامعاملہ فرما۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا صدقہ! ہم سے سدا کے لئے راضی ہوجا ۔)

؎ گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہو گی ہائے میں نارِ جہنم میں جلوں گا یا رب عَزَّوَجَلَّ

عفو کر اور سدا کے لئے راضی ہو جا یہ کرم کر دے تو جنت میں رہوں گا یا رب عَزَّوَجَلَّ

( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)