حدیث نمبر 422

روایت ہے انہی سے کہ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوئے تو آپ بیدار ہوئے مسواک کی اور وضو کیا ۱؎ حالانکہ آپ کہتے تھے بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں یہاں تک کہ سورہ ختم کی ۲؎ پھر کھڑے ہوئے دور کعتیں پڑھیں جن میں قیام رکوع سجدہ دراز کیا پھر فارغ ہوئے ۳؎ تو سوگئے حتی کہ خراٹے لیئے پھر یہ تین بار کیاچھ رکعتیں پڑھیں ۴؎ ہر بار مسواک و وضو کرتے تھے اور یہ آیتیں پڑھتے تھے ۵؎ پھر تین رکعت وتر پڑھیں ۶؎(مسلم)

شرح

۱؎ مرقاۃ میں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وضو تجدید کے لیئے یعنی وضو پر وضو ورنہ آپ کی نیند وضو نہیں توڑتی ہوسکتا ہے کہ آپ کا وضو یہاں دوسری وجہ سے ٹوٹا ہو نہ کہ نیند سے اور مسواک سے مراد یا تو وضو کی مسواک ہے یا وضو سے پہلے کی یعنی جاگنے کی مسواک کیونکہ جاگنے پر مسواک کرنا بھی سنت ہے دوسرا احتمال قول ہے۔

۲؎ پچھلی حدیث سے معلوم ہوا کہ ان آیات کی تلاوت وضو سے پہلے کی اس میں ہے کہ دوران وضو میں کی،ہوسکتا ہے کہ واقعات چند ہوں،وہاں اور واقعہ کا ذکر تھا،یہاں دوسرے واقعہ کا یا وہاں عطف رتبی تراخی کے لیئے تھا نہ کہ زمانی تراخی کے لیئے۔

۳؎ صرف دو رکعتیں پڑھیں مگر دوسری نمازوں سے زیادہ دراز اور سو گئے۔

۴؎ یعنی ایک شب میں تین بار بیدار ہوئے ہر بار میں دو رکعتیں تو نماز تہجد کل چھ رکعتیں ہوئیں۔خیال رہے کہ کبھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی بار پوری تہجد پڑھی اور کبھی بار بار جاگ کر لہذا یہ حدیث پچھلی روایت کے خلاف نہیں۔

۵؎ اس کی تحقیق پہلے ہوچکی کہ یہ بار بار وضو فرمانا استحبابًاتھا یا وجوبًا دوسری وجہ سے ورنہ آپ کی نیند وضو نہیں توڑتی۔

۶؎ اور وتروں کے لیئے چوتھی بار نہ جاگے بلکہ تیسری بار میں ہی دو رکعتیں تہجد اور تین رکعت پڑھ لیئے اسی لیئے یہاں سونے اور جاگنے کا ذکر نہ فرمایا،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ وتر تین رکعت ہیں نہ کہ۔ایک خیال رہے کہ یہاں ب صلہ کی ہے اور اَوتَرَ بِوَاحِدَۃٍ میں ب استعانت کی تھی۔یہاں یہ معنی ہیں کہ تین رکعت وتر پڑھیں وہاں یہ معنی تھا کہ ایک رکعت کے ذریعہ اپنی نماز کو وتر یعنی طاق بنایا۔