أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِى الۡاَرۡضِ‌ۚ وَمَاۡوٰٮهُمُ النَّارُ‌ؕ وَلَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ۞

ترجمہ:

کافروں کے متعلق ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ وہ زمین میں ہمیں عاجز کرنے والے ہیں، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور یقیناً وہ برا ٹھکانا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کافروں کے متعلق ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ وہ زمین میں ہمیں عجز کرنے والے ہیں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور یقینا وہ برا ٹھکانا ہے۔ (النور : ٥٧ )

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کافروں کے متعلق ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ وہ ہماری گرفت سے باہر نکل سکتے ہیں اور جب ہم ان کو عذاب دینا چاہیں تو ہم سے بھاگ سکتے ہیں۔

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد الدمیاطی متوفی ١١١٧ ھ لکھتے ہیں :

ابن عامر، حمزہ اور ادریس نے لاتحسبن کو غائب کے صیغہ کے ساتھ لایحسبن پڑھا ہے، یعنی کوئی گمان کرنے والا یہ گمان نہ کرے کہ وہ کفار زمین میں ہمیں حاجز کرنے والے ہیں اور ہم ان کو اپنے عذاب میں نہیں پکڑ سکیں گے یا وہ کفار یہ گمان نہ کریں کہ ہو ہم کو عاجز کرنے والے ہیں۔ (اتحاف فضلاء البشر فی القراء ات الاربعتہ عشر ص ٤١٣ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 57