أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡـقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِىۡ لَا يَرۡجُوۡنَ نِكَاحًا فَلَيۡسَ عَلَيۡهِنَّ جُنَاحٌ اَنۡ يَّضَعۡنَ ثِيَابَهُنَّ غَيۡرَ مُتَبَـرِّجٰتٍ ۭ بِزِيۡنَةٍ‌ ؕ وَاَنۡ يَّسۡتَعۡفِفۡنَ خَيۡرٌ لَّهُنَّ‌ ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور وہ بوڑھی عورتیں جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اپنے حجاب کے کپڑے اتار رکھیں جب کہ وہ اپنابنائو سنگھار دکھانے والی نہ ہوں اور اگر وہ اس سے بھی احتیاط کریں تو ان کے لئے بہتر ہے اور اللہ بہت سننے والا، بےحد جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ بوڑھی عورتیں جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اپنے حجاب کے کپڑے اتار کر رکھیں جب کو وہ اپنا بنائو سنگھار دکھانے والی نہ ہوں اور اگر وہ اس سے بھی احتیاط کریں تو ان کے لئے بہتر ہے اور اللہ بہت سننے والا، بےحد جاننے والا ہے۔ (النور : ٦٠ )

بوڑھی عورتوں کے حجاب کی وضاحت 

القواعد سے مردا ایسی بوڑھی عورتیں ہیں جو آنے جانے اور معمول کے مطابق کام کاج کرنے سے عاجز ہو کر بیٹھ جائیں، ان کا حیض آنا بند ہوجائے اور ان سے بچے پیدا نہ ہو سکیں، یہ اکثر علماء کا قول ہے۔ ربیعہ نے کہا القواعد سے مراد ایسی بوڑھی عورتیں ہیں کہ جب تم ان کو دیکھو تو ان کے بڑھاپے کی وجہ سے تم کو گھن آئے 

فرمایا : ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اپنے حجاب کے کپڑے اتار کر رکھیں۔

فقہاء کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ وہ بوڑھی عورتیں جو نکاح سے مایوس ہوچکی ہیں اگر ان کے سر کے بال کھلے ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے، اس بناء پر ان کا دوپٹہ اتار کر رکھنا جائز ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ ستر اور حجاب میں فرق ہے، عورت کا پورا جسم سوا چہرے، ہتھوں اور پیروں کے واجب الستر ہے اور اس کے سر کے بالوں کا بھی ستر واجب ہے اور چہرے، ہاتھوں اور پیروں کو چادر سے ڈھانپنا حجاب ہے، اس لئے بوڑھی عورت کے لئے چادر کو اتارن اور چہرے، ہاتھوں اور پیروں کو کھولنا جائز ہے لیکن سر کے بالوں کو ڈھانپنا واجب ہے۔ بوڑھی عورت ستر میں جوان عورت کی مثل ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ گھر میں قمیض پہنے اور دوپٹہ اوڑھے اور اوپر اوڑھنے والی چادر اتار سکتی ہیں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٤٨٤٤ )

فرمایا : غیر مترجات بزینۃ : تبرج کا معنی ہے کسی چیز کو ظاہر کرنا اور دکھانا یعنی ان کی زینت اور بنئاو سنگھار کے دکھائی دینے میں کوئی حجاب نہ ہو، اس طرح وہ خود کو نہ دکھائیں۔

ام الضیاء بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کے اس گئی میں نے عرض کیا اے ام المومنین ! آپ بالوں کو رنگنے، کپڑوں کو رنگنے، کانوں میں بالایں پہننے، پازیب پہننے، سونے کی انگوٹھی پہننے اور باریک کپڑوں کے پہننے کے بارے میں کیا فرماتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا اے عورتوں کی جماعت یہ سب چیزیں تمہارے لئے حلال ہیں لیکن تمہارے اس بنائو سنگھار کو غیر محرم نہ دیکھے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :14849)

سعید بن جبیر نے کہا وہ اپنی چادر اتار کر گھر سے نہ نکلے جس سے اس کی زینت دکھائی دے۔ (تفسری امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :14851)

مقاتل بن حیان نے کہا اس کے لئے اوپر اوڑھنے والی چادر اتار کر گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے جس سے اس کے گلے کا ہار، کانوں کی بالیاں اور دیگر زیورات دکھائی دیں۔ (تفسری امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٤٨٥٢ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 60