أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا دُعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب انہیں ! اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں تو اس وقت ان میں سے ایک فریق اعراض کرنے والا ہوتا ہے

فیصلہ کے لئے قاضی کے بلانے پر جانے کا وجوب 

بشر نام کا ایک منافق تھا جس کا ایک یہودی سے زمین کے متعلق جھگڑا تھا۔ یہودی نے کہا چلو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیصلہ کرائیں، منفاق کا باطل تھا، اس نے انکار کیا اور کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم پر ظلم کرتے ہیں ہم کعب بن اشرف سے فیصلہ کرتاے ہیں، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک قول یہ ہے کہ مغیرہ بن وائل اور حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے درمیان زمین اور پانی میں تنازع تھا، مغیرہ نے کہا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیصلہ نہیں کر ائوں گا وہ مجھ سے بغض رکھتے ہیں اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور جب ان کا موقف درست اور حق ہو تو یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیصلہ کرانے کے لئے آپ کے پاس دوڑتے ہوئے آجاتے ہیں کیونکہ ان کو یہ معلوم تھا کہ آپ حق کے مطابق فیصلہ فرماتے ہیں اور فرمایا یہ لوگ ظالم ہیں کیونکہ یہ حق سے اعراض کرنے والے ہیں۔

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جب حاکم کسی شخص کو فیصلہ کرنے کے لئے بلائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ حاکم کے پاس جائے۔

حسن ابن ابی الحسن بیان رکتے ہیں کہ جس شخص کو اس کے فریق مخلاف نے کسیم سملان حاکم کے پاس فیصلہ کرانے کے لئے بلایا اور وہ نہیں گیا تو وہ ظالم ہے اور اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ (المعجم الکبیرج ٧ ص ٢٧٣ مجمع الزوائد ج ٤ ص ١٩٨) (معالم التنزیل ج ٣ ص ٢٤ مطبوعہ ١٤٢٠ ھ الجامع لاحکام القرآن جز ١٢ ص ٢٧٢، الدرا المنثور ج ٦ ص ١٠٦)

القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 48