وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ(۴۲)

اور ہرگزاللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے (ف۹۶) انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں (ف۹۷) آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ جائیں گی

(ف96)

اس میں مظلوم کو تسلّی دی گئی کہ اللہ تعالٰی ظالم سے اس کا انتقام لے گا ۔

(ف97)

ہول و دہشت سے ۔

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْۚ -وَ اَفْـٕدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ(۴۳)

بے تحاشا دوڑتے نکلیں گے(ف۹۸) اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں (ف۹۹) اور ان کے دلوں میں کچھ سکت(طاقت) نہ ہوگی (ف۱۰۰)

(ف98)

حضرت اسرافیل علیہ السلام کی طرف جو انہیں عرصۂ محشر کی طرف بلائیں گے ،

(ف99)

کہ اپنے آپ کو دیکھ سکیں ۔

(ف100)

شدّتِ حیرت و دہشت سے ۔ قتادہ نے کہا کہ دل سینوں سے نکل کر گلوں میں آ پھنسیں گے ، نہ باہر نکل سکیں نہ اپنی جگہ واپس جا سکیں گے ، معنی یہ ہیں کہ اس دن کی شدّتِ ہول و دہشت کا یہ عالَم ہوگا کہ سر اوپر اٹھے ہوں گے ، آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ، دل اپنی جگہ پر قرار نہ پا سکیں گے ۔

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ- نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِـعِ الرُّسُلَؕ- اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ(۴۴)

اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ (ف۱۰۱) جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم (ف۱۰۲) کہیں گے اے ہمارے رب تھوڑی دیر ہمیں (ف۱۰۳) مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں (ف۱۰۴) اور رسولوں کی غلامی کریں (ف۱۰۵) تو کیا تم پہلے (ف۱۰۶) قسم نہ کھاچکے تھے کہ ہمیں دنیا سے کہیں ہٹ کر جانا نہیں (ف۱۰۷)

(ف101)

یعنی کُفّار کو قیامت کے دن کا خوف دلاؤ ۔

(ف102)

یعنی کافِر ۔

(ف103)

دنیا میں واپس بھیج دے اور ۔

(ف104)

اور تیری توحید پر ایمان لائیں ۔

(ف105)

اور ہم سے جو قصور ہو چکے اس کی تلافی کریں اس پر انہیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور فرمایا جائے گا ۔

(ف106)

دنیا میں ۔

(ف107)

اور کیا تم نے بَعث و آخرت کا انکار نہ کیا تھا ۔

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ(۴۵)

اور تم ان کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنا برا کیا تھا (ف۱۰۸) اور تم پر خوب کُھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا (ف۱۰۹) اور ہم نے تمہیں مثالیں دے دے کر بتادیا(ف۱۱۰)

(ف108)

کُفر و مَعاصی کا ارتکاب کرکے جیسے کہ قومِ نوح وعاد و ثمود وغیرہ ۔

(ف109)

اور تم نے اپنی آنکھوں سے ان کے منازل میں عذاب کے آثار اور نشان دیکھے اور تمہیں ان کی ہلاکت و بربادی کی خبریں ملیں ، یہ سب کچھ دیکھ کر اور جان کر تم نے عبرت نہ حاصل کی اور تم کُفر سے باز نہ آئے ۔

(ف110)

تاکہ تم تدبیر کرو اور سمجھو اور عذاب و ہلاک سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْؕ- وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ(۴۶)

اور بےشک وہ (ف۱۱۱) اپنا سادانؤں(فریب) چلے (ف۱۱۲) اور ان کا دانؤں اللہ کے قابو میں ہے اور ان کا دانؤں کچھ ایسا نہ تھا کہ جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں (ف۱۱۳)

(ف111)

اسلام کے مٹانے اور کُفر کی تائید کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ۔

(ف112)

کہ انہوں نے سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کرنے یا قید کرنے یا نکال دینے کا ارادہ کیا ۔

(ف113)

یعنی آیاتِ الٰہی اور احکامِ شرعِ مصطفائی جو اپنے قوت و ثبات میں بمنزلہ مضبوط پہاڑوں کے ہیں ، محال ہے کہ کافِروں کے مکر اور ان کی حیلہ انگیزیوں سے اپنی جگہ سے ٹل سکیں ۔

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗؕ- اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ(۴۷)

تو ہر گز خیال نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلاف کرے گا (ف۱۱۴) بےشک اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا

(ف114)

یہ تو ممکن ہی نہیں وہ ضرور وعدہ پورا کرے گا اور اپنے رسول کی نصرت فرمائے گا ، ان کے دین کو غالب کرے گا ، ان کے دشمنوں کو ہلاک کرے گا ۔

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۴۸)

جس دن (ف۱۱۵) بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان (ف۱۱۶) اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے (ف۱۱۷) ایک اللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے

(ف115)

اس دن سے روزِ قیامت مراد ہے ۔

(ف116)

زمین و آسمان کی تبدیلی میں مفسِّرین کے دو قول ہیں ایک یہ کہ ان کے اوصاف بدل دیئے جائیں گے مثلاً زمین ایک سطح ہو جائے گی نہ اس پر پہاڑ باقی رہیں گے ، نہ بلند ٹیلے ، نہ گہرے غار ، نہ درخت ، نہ عمارت ، نہ کسی بستی اور اقلیم کا نشان اور آسمان پر کوئی ستارہ نہ رہے گا اور آفتاب ماہتاب کی روشنیاں معدوم ہوں گی ، یہ تبدیلی اوصاف کی ہے ذات کی نہیں ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آسمان و زمین کی ذات ہی بدل دی جائے گی ، اس زمین کی جگہ ایک دوسری چاندی کی زمین ہو گی ، سفید و صاف جس پر نہ کبھی خون بہایا گیا ہو نہ گناہ کیا گیا ہو اور آسمان سونے کا ہوگا ۔ یہ دو قول اگرچہ بظاہر باہم مخالف معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک صحیح ہے اور وجہ جمع یہ ہے کہ اوّل تبدیلِ صفات ہوگی اور دوسری مرتبہ بعدِ حساب تبدیلِ ثانی ہوگی ، اس میں زمین و آسمان کی ذاتیں ہی بدل جائیں گی ۔

(ف117)

اپنی قبروں سے ۔

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَىٕذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ(۴۹)

اور اس دن تم مجرموں (ف۱۱۸) کو دیکھو گے کہ بیڑیوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوں گے (ف۱۱۹)

(ف118)

یعنی کافِروں ۔

(ف119)

اپنے شیاطین کے ساتھ بندھے ہوئے ۔

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ(۵۰)

ان کے کرتے رال کے ہوں گے (ف۱۲۰) اور ان کے چہرے آ گ ڈھانپ لے گی

(ف120)

سیاہ رنگ بدبو دار ، جن سے آ گ کے شعلے اور زیادہ تیز ہو جائیں ۔ (مدارک و خازن)

تفسیرِ بیضاوی میں ہے کہ ان کے بدنوں پر رال لیپ دی جائے گی وہ مثل کُرتے کے ہو جائیگی ، اس کی سوزش اور اس کے رنگ کی وحشت و بدبو سے تکلیف پائیں گے ۔

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْؕ- اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(۵۱)

اس لیے کہ اللہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے بےشک اللہ کو حساب کرتے کچھ دیر نہیں لگتی

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠(۵۲)

یہ (ف۱۲۱) لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے (ف۱۲۲) اور اس لیے کہ عقل والے نصیحت مانیں

(ف121)

قرآن شریف ۔

(ف122)

یعنی ان آیات سے اللہ تعالٰی کی توحید کی دلیلیں پائیں ۔