أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۢ بَعِيۡدٍ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيۡرًا ۞

ترجمہ:

جب وہ (آگ) ان کو دور سے دیکھے گی تو وہ اس کی غصہ سے بپھرنے اور دھاڑنے کی آواز سنیں گے

دوزخ کی آنکھوں، کانوں اور زبان کے متعلق احادیث 

الفرقان : ١٢ میں فرمایا جب وہ آگ ان کو دور سے دیکھے گی، اس آیت میں دوزخ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ حدیث میں بھی اس کی تائید ہے :

خالد بن دریک ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے میری طرف وہ بات منسبو کی جو میں نے نہیں کہی اور جس نے اپنے آپ کو اپنے والدین کے غیر کی طرف منسوب کیا اور جس نے اپنے آپ کو اپنے مالکوں کے غیر کی طرف منسوب کیا وہ جہنم کی دو آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ آپ سے عرض کیا گیا، یا رسول اللہ ! کیا جہنم کی دو آنکھیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب وہ آگ ان کو دور سے دیکھے گی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٤٩٩٩، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن دوزخ اپنی گردن باہر نکالے گی، اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گی، دو کان ہوں گے جن سے وہ سنے گی، اور ایک زبان ہوگی جس سے وہ کلام کرے گی اور وہ کہے گی میرے سپرد تین (قسم کے) شخص کئے گئے ہیں، ہر متکبر معاند، ہر وہ شخص جو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرے اور تصویریں بنانے والے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٧٤ مسند حمد ج ٢ ص ٢٣٦ المسند الجامع رقم الحدیث : ١٥٣٦٥ )

تغیظ اور زفیر کے معنی 

تعیظ کے معنی ہیں، غصہ میں آنا، جھنجھلانا، اظہار غیظ و غضب کرنا۔

زفیر کے معنی ہیں چلانا، زفیر کا اصل معنی ہے اس قدر تیز سانس لینا جس سے پسلیاں پھولنے لگیں، اور شہیق کا معنی ہے سانس کو سینہ کی طرف لوٹانا، یاز فیر کا معنی ہے سانس کو کھینچ کر سینے سے نکالنا۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں، زفیر بلند آواز ہے اور شہیق پست آواز ہے، ضحاک اور مقاتل نے کہا زفیر گدھے کی پہلی آواز ہے اور شہفیق اس کی آخری آواز ہے۔ ابوالعالیہ کہیت ہیں کہ زفیر حلق میں ہوتی ہے اور شہیق پیٹ میں۔ (تفسیر خازن ج ٢ ص 371 دارالکتب العربیہ پشاور)

اس آیت کا ایک محمل یہ ہے کہ لوگ قیامت کے دن دوزخ میں کافروں کے رونے اور چلانے کی آوازیں سنیں گے اور صحیح یہ ہے کہ وہ دوزخ ہی کی غصہ میں دھاڑنے اور چنگھاڑنے کی آوازیں سنیں گے۔

حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو دوزخ کی طرف گھسیٹ کرلے جایا جائے گا تو دوزخ اس طرح چلائے گی جس طرح خچر گھاس اور جو کو دیکھ کر چلاتا ہے۔ یہ آواز سن کر ہر شخص ڈر جائے گا۔

عبید بن عمر لیثی نے اس کی تفسیر میں کہا جہنم اس طرح دھاڑ رہی ہوگی کہ ہر فرشتہ اور ہر نبی اس کی آواز سن کر خوف سے گرجائے گا اور اس کے کندھے خوف سے کپکپا رہے ہوں گے۔ حتیٰ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے کہیں گے : اے میرے رب آج کے دن میں تجھ سے صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٨ ص ٢٦٦٨ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 12