بریلویوں کے پیر کیسے ہوتے ہیں؟

بریلوی حضرات پر چند متعصب قسم کے لوگ جو الزام لگاتے ہیں کہ بریلوی قبروں کی پوجا کرتے ہیں گذشتہ روز فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے فتاوی رضویہ سے اس الزام کا دندان شکن جواب دیا کہ سجدہ کرنا تو بہت دور کی بات فاضل بریلوی مزار کو چھونے سے بھی منع فرماتے ہیں۔

اسی طرح کچھ متعصب قسم کے لوگ کہ جب انکے کالے کرتوت سامنے لائے جاتے ہیں تو ان میں اتنی اوقات تو نہیں ہوتی ھے دلائل کے ساتھ مقابلہ کرسکیں لہذا الزام تراشی کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیتے ہیں۔

اس الزام تراشی میں مرزا علی پلمبر کے پیروکار پیش پیش ہیں انکا حال انھیں مشرکین مکہ کی طرح ھے کہ جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے دلائل قاطعیہ سے سب کا رد کردیا تو مشرکین مکہ نے اپنی ہار تسلیم کرتے ہوے بہتانوں کا سلسلہ شروع کردیا ۔

کہتے ہیں نا عادتیں نسلوں کی پہچان کرواتی ہیں کل مشرکین مکہ صحابہؓ اکرام پر بہتان لگاتے تھے آج انکی ذریت یعنی ذریت پلمبر مسلمانوں پر الزام تراشیاں کرتے ہے۔

الزام لگاتے ہیں کہ بریلویوں کے پیر زانی شرابی شریعت کے احکامات کی پیروی نا کرنے والے ہوتے ہیں۔

اس دعوے میں کتنی صداقت فتاویٰ مہریہ سے واضح ہوجائے گا۔

پیر مہر علی شاہ صاحب بریلویوں کے پیر کی چند شرائط بیان فرماتے ہیں اور الحمد الله بریلوی بھی انھیں کو اپنا پیر تسلیم کرتے ہیں جو ان تمام شرائط کا مصداق ہوں۔

چنانچہ پیر مہر علی شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ بیعت کرنے کے قابل وہ شخص ہوتا ھے ضروری علم دینی کے علاوہ درج ذیل اوصاف بھی رکھتا ہو۔۔۔۔

(1) متقی

(2) کبائر سے مجتنب

(3) صغائر پر غیر مصر

(4) زاہد

(5) عابد

(6) اشغال و اذکار پر مداومت کرنے والا

(7)امر بالمعروف و نہی عن المنکر

(8) ذوفہم

(9) مستقل رائے

(10) شیخ کی صحبت سے فیض یافتہ

(فتاویٰ مہریہ ص 66)

الحمد الله جن شخص میں یہ تمام صفات پائی جائیں بریلوی اسے اپنا پیر تسلیم کرتے ہیں۔

باقی جتنے بھی پیر شریعت کے احکامات کی مخالفت کرنے والے صحابہؓ کے گستاخ وغیرہ وغیرہ کو ہم اپنی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں ۔

امید ھے تعصب سے بالاتر ہوکر جو شخص یہ تحریر پڑھے گا اسے افاقہ ہوگا۔

احمدرضارضوی