أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تَبٰـرَكَ الَّذِىۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرًا مِّنۡ ذٰ لِكَ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ۙ وَيَجۡعَلْ لَّكَ قُصُوۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

وہ برکت والا ہے جو اگر چاہے تو آپ کے لئے (ان کے کہے ہوئے) باغات سے بہتر بنا دے، ایسے باغات جن کے نیچے سے دریا جاری ہوں اور آپ کے لئے محل بنا دے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ برکت والا ہے جو اگر چاہے تو آپ کے لئے (ان کے کہے ہوئے) باغات سے بہتر بنا دے، ایسے باغات جن کے نیچے سے دریا جاری ہوں اور آپ کے لئے محل بنا دے۔ (الفرقان : ١٠)

باغات اور محلات کے طعنہ کا جواب 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ان مشرکین نے آپ کے لئے جن باغات اور محلات کا ذکر کیا ہے، اللہ اگر چاہے تو آپ کے لئے اس سے بہتر باغات بنا دے جن کے نیچے سے دریا بہہ رہے ہوں اور آپ کے لئے محلات بنا دے 

امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

خیثمہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا کہ ہم آپ کو روئے زمین کے تمام خزانے اور اس کی چابیاں عطا فرمائیں گے جو ہم نے آپ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کیں، اس سے اللہ کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی، آپ نے عرض کیا اے اللہ میرے لئے ان چیزوں کو آخرت میں جمع کر دے۔

قتادہ نے کہا مشرکین نے آپ سے جن چیزوں کا ذکر کیا ہے اگر ہم چاہیں تو آپ کو اس سے بہتر خزانے اور باغات عطا کردیں ایسے باغات جن کے نیچے دریا بہہ رہے ہوں۔

محمد بن اسحاق نے کہا کفار نے جو کہا تھا کہ آپ بازاروں میں چلتے ہیں اور کسب معاش کرتے ہیں، جس طرح عام لوگ کرتے ہیں، اللہ نے فرمایا ! اگر ہم چاہیں تو آپ کو اس سے بہتر چیزیں عطا کردیں۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٨ ص ٢٦٦٦ مکہ مکرمہ، مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣١٧٩١ دارالکتب العلمیہ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 10