أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِىۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّـتَّخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ وَ لٰـكِنۡ مَّتَّعۡتَهُمۡ وَاٰبَآءَهُمۡ حَتّٰى نَسُوا الذِّكۡرَ‌ۚ وَكَانُوۡا قَوۡمًۢا بُوۡرًا ۞

ترجمہ:

وہ کہیں گے تو ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، ہمیں یہ لائق نہ تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر اوروں کو مددگار بناتے لیکن تو نے ان کو اور انکے باپ دادا کو خوش حالی عطا فرمائی حتیٰ کہ انہوں نے نصیحت کو بھلا دیا اور یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے

کفار کے معبودوں نے کفار کا رد کرتے ہوئے کہا : ہمیں یہ لائق نہ تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر اوروں کو اولیاء بناتے۔

اولیاء کی تفسیر میں سدی نے کہا ولی وہ ہے جس کو اللہ اپنا دوست بنا لے اور وہ اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرے۔

فرمایا : لیکن تو نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوش حالی عطا فرمائی تھی۔ یعنی دنیا میں ان کو صحت، لمبی زندگی اور کشادگی اور فراخی عطا فرمائی حتیٰ کہ انہوں نے نصیحت کو بھلا دیا یعنی انہوں نے تجھے یاد کرنا چھوڑ دیا اور تکبر میں آ کر تیرے ساتھ شرک کیا، اور ہمارے حکم کے بغیر ہماری عبادت کی۔ ذکر کی تفسیر میں دو قول ہیں : ایک یہ کہ اس سے مراد وہ کتابیں اور صحائف ہیں جو رسل (علیہم السلام) پر نازل کئے گئے جن پر انہوں نے عمل کرنے کو ترک کردیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات کا شکر ادا نہیں کیا۔

فرمایا : اور یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے۔ حضرت ابوالدرداء (رض) حمص والوں کے پاس گئے اور فرمایا اے اہل حمص ! اپنے بھائی کے پاس تاکہ وہ تمہیں نصیحت کرے جب وہ ان کے گرد جمع ہوگئے تو فرمایا کیا وجہ ہے کہ تم حیا نہیں کرتے، تم وہ مکان بناتے ہو جن میں تم رہتے نہیں ہو اور تم اس طعام کو جمع کرتے ہو جس کو تم کھاتے نہیں ہو اور تم ان چیزوں کی امید رکھتے ہو جن کو تم پا نہیں سکتے ! بیشک تم سے پہلے لوگوں نے مضبوط گھر بنائے، اور غلام جمع کئے اور لمبی امیدیں رکھیں، پھر ہو سب لوگ ہلاک ہوگئے ان کی امیدیں دھوکا بن گئیں اور انکے گھر قبرستان بن گئے۔

بوراً کے معنی اور شرک کی مذمت 

بوراً کے معنی ہیں ہلاک ہونے والے خالی جس میں کوئی چیز نہ ہو۔ بواری الارض کا معنی ہے بےکار زمین جس میں کوئی خیر اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ شہر بن خوشب نے کہا بوار کا معنی ہے فاسد اور کھوٹی چیز، جب کوئی سودا بک نہ سکے تو کہتے ہیں بارت السلعۃ 

فرمایا : تمہارے معبودوں نے تمہاری تکذیب کردی، یہ اللہ تعالیٰ اس وقت فرمائے گا جب مشرکین کے معبود ان سے برأت کا اظہار کردیں گے۔ 

ابو عبید نے کہا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تمہارے معبود تم کو اس حق سے ہٹانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے جس کی طرف اللہ نے تمہیں ہدایت دی تھی اور نہ تم پر نازل ہونے والے عذاب کو تم سے دور کر کے تمہاری مدد کرسکتے تھے کیونکہ انہوں نے تمہاری تکذیب کردی تھی۔

حضرت ابن عباس نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور تم میں سے جس نے بھی ظلم کیا ہے ہم اس کو بہت بڑا عذاب چکھائیں گے اس کا معنی ہے تم میں سے جس شخص نے شرک کیا پھر وہ اسی شرک پر مرگیا ہم اس کو آخرت میں بہت سخت عذاب دیں گے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٨ ص 2672-2673 الجامع لاحکام القرآن جز ١٣ ص 12-13)

الفریابی، ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید اور ابن المنذر اس آیت کی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

جو لوگ حضرت عیسیٰ حضرت عزیز اور فرشتوں کی عبادت کرتے تھے جب قیامت کے دن یہ انبیاء اور فرشتے ان لوگوں کی تکذیب کردیں گے اور کہیں گے اے اللہ ! تو شرک کئے جانے سے پاک ہے تو ہمارا مالک اور معبود ہے تو اللہ تعالیٰ ان مشرکوں سے فرمائے گا جن کی تم عبادت کرتے تھے وہ نہ تم سے عذاب دور کرسکتے ہیں اور نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں۔

امام ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ سیر وایت کیا ہے کہ میں نے بہتر آسمانی کتابیں پڑھی ہیں اور کسی کتاب نے قرآن مجید سے زیادہ ظلم پر مذمت نہیں کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس امت کا فتنہ ظلم میں ہوگا، اور دوسری امتوں کی زیادہ مذمت شرک اور بت پرستی کی وجہ سے کی گئی ہے۔

امام عبدالرزاق اور ابن جریر نے حسن بصری اور ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے۔ (الدرالمنثور ج ٦ ص ٣٢١ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت : ١٤٢١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 18