أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡـغَمَامِ وَنُزِّلَ الۡمَلٰٓئِكَةُ تَنۡزِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور جس دن آسمان بادلوں سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتوں کی جماعتیں نازل کی جائیں گی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس دن آسمان بادلوں سمیت صپھٹ جائے گا اور فرشتوں کی جماعتیں نازل کی جائیں۔ اس دن برحق سلطنت صرف رحمٰن کی ہوگی اور وہ ان کافروں پر سخت دشوار ہوگا ،۔ اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹے گا (اور) کہے گا کاش میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کرلیا ہوتا !۔ ہائے افسوس کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے تو میرے پاس نصیحت آنے کے بعد مجھ کو گمراہ کردیا اور شیطان تو انسان کو گمراہ کرنے والا ہے ۲۵-۲۹

قیامت کے دن کے احوال 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا پہلے آسمان دنیا پھٹے گا اور آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے ان کی تعداد زمین کے جانور و انس سے زیادہ ہوگی اور پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اور اس کے فرشتے نازل ہوں گے آسمان پھٹنے کے بعد ہر بعد میں پھٹنے والے آسمان کے فرشتے اس سے پہلے جتنے والے آسمان کے فرشتوں سے زیادہ ہوں گے پھر کرو زبین (فرشتوں کے سردار جو مقربین ہیں )نازل ہوں گے، پھر حاملین عرض نازل ہوں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 25