أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِىۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

ہائے افسوس ! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

پھر فرمایا : (وہ قیامت کے دن کہے گا) ہائے افسوس ! کاش میں نے فلاں شخص کو (یعنی امیہ بن خلف کو) دوست نہ بنایا ہوتا ! اس کے بعد فرمایا : (وہ کہے گا) اس نے تو میرے پاس نصیحت آنے کے بعد مجھ کو گمراہ کردیا، یعنی میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید لے کر آ چکے تھے اور شیطان تو انسان کو رسوا کرنے والا ہے، شیطان سے مراد انسانوں اور جنات میں سے ہر وہ شخص مراد ہے جو متکبر، معاند اور سرکش ہو، اور ہر وہ شخص جو اللہ کے راستہ سے روکے وہ شیطان ہے۔ ان دو آیتوں کا حکم ہر ایسے دو دوستوں کے حق میں عام ہے جو اللہ عزوجل کی معصیت پر مجتمع اور متفق ہوجائیں۔

(معالم التنزیل ج ٣ ص 442-443 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤٢٠ ھ)

کیسے شخص کو دوست بنایا جائے 

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نیک ہم نشیں (دوست) اور بےہم نشیں کی مثال اس طرح ہے جیسے مشک والا ہو اور لوہار کی بھٹی میں پھونک مارنے والا ہو۔ مشک والا یا تو تم کو مشک کا عطیہ دے گا یا تم اس سے مشک خرید لو گے ورنہ تم کو اس سے پاکیزہ خوشبو تو بہرحال آئے گی اور لوہار کی بھٹی والا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا ورنہ تم کو اس سے بہرحال ناگوار بوتو آئے گی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٣٤ صحیح مسلم الحدیث : ٦٢٦٨ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦ مسند حمد ج ٤ ص 404-405)

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن کے سوا اور کسی کو اپنا دوست نہ بنائو اور متقی (اللہ سے ڈرنے والے) کے سوا اور کوئی تمہارا کھانا نہ کھائے۔

(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٨٣٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٤٨٤٢ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٩٥ مسند احمد ج ٣ ص 38 صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٥٥، ٥٥٤ المستدرک ج ٢ ص ١٢٨ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر شخص اپنے دوستوں کے دین پر ہوتا ہے سو تم میں سے ہر شخص کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس شخص کو اپنا دوست بنا رہا ہے۔

(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٨٣٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٧٨، مسند احمد ج ٢ ص ٣٣٤، مسند الطیالسی رقم الحدیث : ٢١٠٧ المستدرک ج ٤ ص ١٧١ شرح السنتہ رقم الحدیث : ٣٣٨٠)

امام ابوبکر بزار حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! ہمارے لئے کون ساہم نشین زیادہ بہتر ہیں ؟ آپ نے فرمایا جس کو دیکھنے سے تمہیں اللہ یاد آئے اور جس کی گفتگو سے تمہارے علم میں اضافہ ہو۔

مالک بن دینار نے کہا اگر تم نیک مسلمانوں کے ساتھ پتھر اٹھائو تو وہ بدکار لوگوں کے ساتھ کھانے پینے سے بہتر ہے۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ١٣ ص ٢٧ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

قیامت کے دن کافر، کافروں کو دوست بنانے پر نادم ہوگا اور اس میں یہ دلیل ہے کہ مسلمان، نیک مسلمانوں کو دوست بنانے پر خوش ہوں گے۔ کافر کو اس کا دوست گمراہ کر کے ہلاکت میں ڈال دے گا اس لئے وہ قیامت کے دن غمگین اور حسرت زدہ ہوگا اور مسلمان کو اس کا نیک مسلمان دوست نیک کاموں کی طرف رونمائی کرے گا اور اس پر وہ آخرت میں خوش ہوگا۔

القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 28