بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

سورۂ حِجر مکیّہ ہے اس میں چھ رکوع ننانوے آیتیں چھ سو چوّن کلمے دو ہزار سات سو ساٹھ حرف ہیں ۔

الٓرٰ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ(۱)

یہ آیتیں ہیں کتاب اور روشن قرآن کی

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ(۲)

بہت آرزوئیں کریں گے کافر (ف۲)کاش مسلمان ہوتے

(ف2)

یہ آرزوئیں یا وقتِ نزع عذاب دیکھ کر ہوں گی جب کافِر کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ گمراہی میں تھا یا آخرت میں روزِ قیامت کے شدائد اور اہوال اور اپنا انجام و مآل دیکھ کر ۔ زُجاج کا قول ہے کہ کافِر جب کبھی اپنے احوالِ عذاب اور مسلمانوں پر اللہ کی رحمت دیکھیں گے ہر مرتبہ آرزوئیں کریں گے کہ ۔

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ(۳)

انہیں چھوڑو (ف۳)کہ کھائیں اور برتیں(ف۴)اور امید (ف۵) انہیں کھیل میں ڈالے تو اب جاناچاہتے ہیں (ف۶)

(ف3)

اے مصطفٰے ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔

(ف4)

دنیا کی لذتیں ۔

(ف5)

تنعُّم و تلذُّذ و طولِ حیات کی جس کے سبب وہ ایمان سے محروم ہیں ۔

(ف6)

اپنا انجامِ کار ۔ اس میں تنبیہ ہے کہ لمبی امیدوں میں گرفتار ہونا اور لذاتِ دنیا کی طلب میں غرق ہو جانا ایماندار کی شان نہیں ۔ حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا لمبی امیدیں آخرت کو بھلاتی ہیں اور خواہشات کا اِتِّباع حق سے روکتا ہے ۔

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ(۴)

اور جو بستی ہم نے ہلاک کی اس کا ایک جانا ہوانَوِشْتہ(لکھا ہوا فیصلہ) تھا (ف۷)

(ف7)

لوحِ محفوظ میں اسی معیّن وقت پر وہ ہلاک ہوئی ۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ(۵)

کوئی گروہ اپنے وعدہ سے نہ آگے بڑھے نہ پیچھے ہٹے

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ(۶)

اور بولے (ف۸) کہ اے وہ جن پر قرآن اترا بےشک تم مجنون ہو (ف۹)

(ف8)

کُفّارِ مکّہ حضرت نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔

(ف9)

ان کا یہ قول تمسخُر اور استہزاء کے طور پر تھاجیسا کہ فرعون نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت کہا تھا ” اِنَّ رَسُوْلَکُمْ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ” ۔

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓىٕكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۷)

ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے(ف۱۰) اگر تم سچے ہو (ف۱۱)

(ف10)

جوتمہارے رسول ہونے اور قران شریف کے کتابِ الٰہی ہونے کی گواہی دیں ۔

(ف11)

اللہ تعالٰی اس کے جواب میں فرماتا ہے ۔

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ(۸)

ہم فرشتے بیکار نہیں اتارتے اور وہ اتریں تو انہیں مہلت نہ ملے (ف۱۲)

(ف12)

فی الحال عذاب میں گرفتار کر دیئے جائیں ۔

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹)

بےشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بےشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں(ف۱۳)

(ف13)

کہ تحریف و تبدیل و زیادتی و کمی سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں ۔ تمام جن و انس اورساری خَلق کے مقدور میں نہیں ہے کہ اس میں ایک حرف کی کمی بیشی کرے یا تغییر و تبدیل کرسکے اور چونکہ اللہ تعالٰی نے قرآنِ کریم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اس لئے یہ خصوصیت صرف قرآن شریف ہی کی ہے دوسری کسی کتاب کو یہ بات میسّر نہیں ۔ یہ حفاظت کئی طرح پر ہے ایک یہ کہ قرآنِ کریم کو معجِزہ بنایا کہ بشر کا کلام اس میں مل ہی نہ سکے ، ایک یہ کہ اس کو معارضے اور مقابلہ سے محفوظ کیا کوئی اس کی مثل کلام بنانے پر قادر نہ ہو ، ایک یہ کہ ساری خَلق کو اس کے نیست و نابود اور معدوم کرنے سے عاجز کردیا کہ کُفّار باوجود کمال عداوت کے اس کتابِ مقدس کو معدوم کرنے سے عاجز ہیں ۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ(۱۰)

اور بےشک ہم نے تم سے پہلے اگلی امتوں میں رسول بھیجے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(۱۱)

اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر اس سے ہنسی کرتے ہیں (ف۱۴)

(ف14)

اس آیت میں بتایا گیا کہ جس طرح کُفّارِ مکّہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جاہلانہ باتیں کیں اور بے ادبی سے آپ کو مجنون کہا ۔ قدیم زمانہ سے کُفّار کی انبیاء کے ساتھ یہی عادت رہی ہے اور وہ رسولوں کے ساتھ تمسخُر کرتے رہے ۔ اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے ۔

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ(۱۲)

ایسے ہی ہم اس ہنسی کو ان مجرموں (ف۱۵) کے دلوں میں راہ دیتے ہیں

(ف15)

یعنی مشرکینِ مکّہ ۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ(۱۳)

وہ اس پر (ف۱۶) ایمان نہیں لاتے اور اگلوں کی راہ پڑچکی ہے (ف۱۷)

(ف16)

یعنی سیدِ انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا قرآن پر ۔

(ف17)

کہ وہ انبیاء کی تکذیب کر کے عذابِ الٰہی سے ہلاک ہوتے رہے ہیں ۔ یہی حال ان کا ہے تو انہیں عذابِ الٰہی سے ڈرتے رہنا چاہیئے ۔

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ(۱۴)

اور اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیں کہ دن کو اس میں چڑھتے

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠(۱۵)

جب بھی یہی کہتے کہ ہماری نگاہ باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو ہوا (ف۱۸)

(ف18)

یعنی ان کُفّار کا عناد اس درجہ پر پہنچ گیا ہے کہ اگر ان کے لئے آسمان میں دروازہ کھول دیا جائے اور انہیں اس میں چڑھنا میسّر ہو اور دن میں اس سے گزریں اور آنکھوں سے دیکھیں جب بھی نہ مانیں اور یہ کہہ دیں کہ ہماری نظر بندی کی گئی اور ہم پر جادو ہوا تو جب خود اپنے معائنہ سے انہیں یقین حاصل نہ ہوا تو ملائکہ کے آنے اور گواہی دینے سے جس کو یہ طلب کرتے ہیں انہیں کیا فائدہ ہوگا ؟