حدیث نمبر 436

روایت ہے حضرت یعلی ابن مملک سے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اور نماز کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا کہ تمہیں ان کی نماز سے کیا نسبت ۱؎ آپ نماز پڑھتے تھے پھر نماز کے بقدر سوتے تھے پھر سونے کے بعد بقدر نماز پڑھتے تھے پھر نماز کے بقدر سوتے تھے حتی کہ صبح کرتے۲؎ پھر آپ کی قرأت بیان کی تو ایسی قرأت بیان کرنے لگیں ایک ایک حرف صاف جدا ۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی)

شرح

۱؎ یعنی تم میں یہ ہمت و جرات کہاں جو رات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ سکو اس فرمان کا مقصد یا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی عظمت دکھانا ہے یا موجودہ حضرات پر حسرت کا اظہار ہے کہ ان کی ہمت پہلے کی سی نہ رہی یا پوچھنے والے کو اس پر دلیر کرنا منظور ہے کہ وہ یہ بات سن کر جوش میں آئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کی کوششیں کریں لہذا یہ حدیث روافض کی دلیل نہیں کہ صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے چھوڑ دیئے تھے۔

۲؎ تہجد سے پہلے سونا تہجد کے لیئے شرط ہے کہ اس کی بغیر نماز تہجد نہ کہلائے گی اور بعد تہجد سونا سنت ہے۔بہتر یہ ہے کہ سویرا سوتے ہوئے نمودار ہو۔

۳؎ یعنی آپ کی قر¬أت نہایت آہستگی سے اور صاف تھی جس سے ہر کلمہ جداگانہ سمجھ میں آتا تھا اور ہر کلمہ کے حروف ح،ع،ز،ذ،ط،ض،واضح طور پر سمجھ لیئے جاتے تھے،ایک کلمہ دوسرے سے مخلوط نہ ہوتا تھا تلاوت قرآن کریم کا یہ ہی طریقہ چاہیے زیادہ پڑھنے کی کوشش نہ کرو درست پڑھنے کی کوشش کرو۔