أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الرَّسُوۡلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِى اتَّخَذُوۡا هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَهۡجُوۡرًا ۞

ترجمہ:

اور رسول کہیں گے اے میرے رب بیشک میری قوم (میں سے کافروں) نے اس قرآن کو متروک بنا لیا تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور رسول کہیں گے اے میرے رب ! بیشک میری قوم (میں سے کافروں) نے اس قرآن کو متروک بنا لیا تھا۔ اور ہم نے اسی طرح ہر نبی کے لئے مجرمین میں سے دشمن بنا دیئے ہیں اور آپ کا رب آپ کو ہدایت دینے اور آپکی مدد کرنے کے لئے کافی ہے۔ (الفرقان : ٣١-٣٠)

مھجور کا معنی 

مھجور کا لفظ ھجر سے بنا ہے اور ھجر کا ایک معنی ترک کرنا ہے اور مھجور کا معنی متروک ہے اور ھجر کا دورسا معنی ھذیان اور فضول بکواس ہے، پہلے معنی کے لحاظ سے قیامت کے دن رسول یہ کہیں گے کہ کافروں نے قرآن مجید کو متروک بنا لیا تھا، وہ اس سے اعراض کرتے تھے اور اس پر ایمان نہیں لاتے تھے اور اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے تھے۔

اور مجور کا دوسرا معنی ھذیان اور فضول باتیں ہیں یعنی کافر قرآن مجید کو فضول باتیں اور ھذیان قرار دیتے تھے، وہ یہ زعم کرتے تھے کہ قرآن مجید شعر و شاعری اور سحر کا نتیجہ ہے، یہ مجاہد کا قول ہے اور اس کی ایک تفسیر ی ہے کہ قیامت کے دن سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قوم کے مشرکین کی اپنے رب سے شکایت کریں گے کہ انہوں نے قرآن مجید کو فضول اور مہمل کلامق رار دیا تھا تو اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دینے کے لئے فرمائے گا : اور ہم نے اسی طرح ہر نبی کے لئے مجرمین میں سے دشمن بنا دیئے ہیں۔ مقاتل نے اس کی تفسیر میں کہا : آپ ان کی باتوں سے رنجید نہ ہوں کیونکہ آپ سے پہلے نبیوں کو بھی اپنی قوموں کی طرف سے اسی قسم کی باتوں کا سامنا کرنا پ ڑا تھا، سو جس طرح انہوں نے اپنے مخالفوں کی دل آزار باتوں پر صبر کیا تھا آپ بھی ان کی باتوں پر صبر کریں، آپ کا رب آپ کو ہدایت دینے اور آپ کی مدد کرنے کے لئے کافی ہے۔ (معالم التنزیل ج ٣ ص ٤٤٥، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤٢٠ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 30