أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡـقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً‌  ‌ۛۚ كَذٰلِكَ ‌ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُـؤَادَكَ‌ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور کافروں نے کہا یہ پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ؟ (ہم نے) اسی طرح (تدریجاً نازل کیا ہے) تاکہ اس سے آپ کے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اس کو وقفہ وقفہ سے تلاوت فرمایا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کافروں نے کہا یہ پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ؟ (ہم نے) اسی طرح (تدریجاً نازل کیا ہے) تاکہ اس سے آپ کے دل کو مضبوط کریں، اور ہم نے اس کو وقفہ وقفہ سے تلاوت فرمایا ہے۔ اور یہ آپ کے پاس جو بھی مثال (یا اعتراض) لائیں گے ہم اس کی برحق اور عمدہ توجیہ بیان کریں گے۔ (الفرقان : ٣٣-٣٢)

قرآن مجید کو تدریجاً نازل کرنے کی وجوہ 

مشرکین کا اعتراض یہ تھا کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر مکمل تورات یکبارگی نازل ہوئی اور حضرت دائود (علیہ السلام) پر مکمل زبور یکبارگی نازل ہوئی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر مکمل انجیل یکبارگی نازل ہوئی اسی طرح آپ پر رمکمل قرآن یکبارگی کیوں نہیں نازل ہوا اور تھوڑا تھوڑا کر کے ٢٣ (تئیس) سال میں قرآن مجید کا نزول کیوں مکمل کیا گیا، اگر آپ بھی ان کی طرح نبی اور رسول ہیں تو آپ کے ساتھ ان نبیوں اور رسولوں کا سا معاملہ کیوں نہیں کیا گیا ؟ ان آیتوں میں ان کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جس کی فصیل حسب ذیل ہے :

(١) انبیاء سابقین لکھنے اور لکھے ہوئے کو پھڑنے والے تھے اس لئے ان پر مکمل کتابیں نازل کردی گئیں کہ وہ اس میں سے حسب ضرورت آیات نکال کر پڑھتے رہیں گے اس کے برخلاف آپ امی تھے آپ نے کسی سے لکھنا اور لکھے ہوئے کو پھڑنا نہیں سکیھا تھا، آپ کے لئے اس قرآن کو محفوظ رکھنے کی صرف یہ صورت تھی کہ آپ اس کو زبانی یاد کرلیں اس لئے قرآن مجید تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا گیا تاکہ آپ کے لئے اس کو یاد کرنا آسان ہو۔ واضح رہے کہ ابتداء میں آپ لکھتے پڑھتے نہیں تھے بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دیا اور متعدد احادیث صحیحہ میں ہے کہ آپ نے بعد میں لکھا بھی اور پڑھا بھی۔ اس کی تفصیل الاعراف : ١٥٧ میں گزر چکی ہے۔

(٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں ناسخ اور منسوخ آیتیں ہیں مثلاً پہلے بیوہ کی عدت ایک سال مقرر فرمائی، پھر یہ عدت چار ماہ دس دن قرار دی، پہلے کفار کی زیادتیوں کو درگزر کرنے کا حکم دیا، پھر ان سے قتال اور جاد کرنے کا حکم دیا، پہلے ایک مسلمان کو دس کافروں سے لڑنے کا حکم دیا پھر تخفیف کردی اور ایک مسلمان کو دو کافروں سے لڑنے کا مکلف فرمایا۔ بعض احکام پہلے مشکل تھے، پھر آسان کردیئے جیسے یہ مثالیں ہیں، اور بعض احکام پہلے آسان تھے پھر ان کو بہ تدریج سخت کیا گیا جیسے شراب نوشی کی بہ تدریج حرام فرمایا اور یہ تمام امور اسی وقت ہوسکتے تھے جب قرآن مجید کو بہ تدریج نازل کیا جاتا۔

(٣) بعض آیتیں مسلمانوں کے سوالات کے جواب میں نازل کی گئیں مثلاً مسلمانوں نے عورت کے حیض کے ایام میں اس سے جماع کرنے کے متعلق سوال کیا تو فرمایا حیض ایک نجس چیز ہے، ان ایام میں عورتوں سے دور رہو۔ اسی طرح مسلمانوں نے چاند کے گھٹنے بڑھنے کے متعلق سوال کیا تو فرمایا اس میں لوگوں کے لئے اوقات اور حج کے وقت کی علامات اور تعینات ہیں اور اس کی مثل اور بہت آیات ہیں۔

(٤) اسی طرح مشرکین کے سوالات اور ان کے اعتراضات کے جوابات ہیں مثلاً وہ قیامت کے وقت کے متعلق سوال کرتے تھے، مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں سوالات کرتے تھے، دوزخ میں درخت زقوم پر اعتراض کرتے تھے، مکھی اور مکڑی کے ذکر پر اعتراض کرتے تھے۔

(٥) اسی طرح یہودیوں کے سوالات کے جوابات میں آیات نازل ہوئیں۔ انہوں نے اصحاب کہف کی تعداد روح کی ماہیت اور ذوالقرنین کے متعلق سوال کیا تو اس کے جواب میں آیات نازل ہوئیں۔

(٦) بعض اوقات طبیث اور ملعون کفار آپ کی شان میں اہانت آمیز باتیں کرتے تو ان کے رو میں آیات نازل ہوتیں مثلاً ولید بن مغیرہ نے آپ کو مجنون کہا، عاص بن وائل نے آپ کو ابتر کہا، کسی نے آپ کو شاعر کہا، کسی نے آپ کو ساحر کہا، کسی نے آپ کو سحر زدہ کہا تو ان کے رد اور ان کی مذمت میں آیات نازل ہوئیں۔

(٧) آپ کے اصحاب کی شان میں منفاقین نے بدگوئی کی اور ان کو سفیہ اور بیوقوف کہا تو ان کے رد میں آیات نازل ہوئیں۔

(٨) کسی نے آپ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ کے متعلق سوال کیا تو اس کے جواب میں پوری سورة یوسف نازل ہوگئی۔

(٩) بعض اوقات صحابہ کرام کو کوئی مسئلہ سمجھ میں نہ آتا تو اس کی وضاحت کے لئے آیات نازل ہوجاتیں۔ مثلاً صحابہ نے پوچھا ہم اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں ؟ بعض دفعہ پوچھا کس پر خرچ کریں تو اس کے بیان کے لئے آیات نازل ہوئیں۔

(١٠) بعض اوقات جزوی واقعات کے سلسلہ میں آیات نازل ہوئیں۔ مثلاً یہود نے کہا آپ پر جبریل وحی لاتا ہے وہ تو ہمارا دشمن ہے اور جب حضرت ابوبکر نے ان سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے کہا تو انہوں نے کہا پھر تو اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں اور کہا اللہ کے ہاتھ تو بندھے ہوئے ہیں تو ان کی ردا اور ان کی مذمت میں آیات نازل ہوئیں۔ اسی طرح جب ایک منفاق نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ نہیں مانا اور حضرت عمر نے اس کو قتل کردیا تو حضرت عمر کی تائید میں آیات نازل ہوئیں۔ اسی طرح اور بہت جزوی واقعات ہیں جن کی وجہ سے آیات نازل ہوئیں۔ یہ جزوی واقعات اور کفار، یہود اور منافقین کے سوالات اور ان کے اعتراضات اسی طرح مسلمانوں کے سوالات بہ تدریج پیش آتے رہتے تھے اسی لئے ضروری تھا کہ ان کے حل اور ان کے جوابات کے سلسلہ میں آیات بھی بہ تدریج نازل ہوتی رہیں اور بیک وقت کئی کئی سورتیں نازل ہوتی رہتی تھیں۔ مثلاً حضرت یوسف کے قصہ کے متعلق یاجوج ماجوج کے متعلق ایک سورت یا وقت کئی کئی سورتیں نازل ہوتی رہتی تھیں۔ مثلاً حضرت یوسف کے قصہ کے متعق یایاجوج ماجوج کے متعلق ایک سورت یا کسی سورت کی آیات نازل ہو رہی ہیں پھر کسی نے کسی اور چیز کے متعقل سوال یا اعتراض کردیا تو کسی اور سورت میں اس کے متعلق آیات نازل ہوگئیں یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی ترتیب نزول کے اعتبار سے نہیں ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اگر قرآن مجید یکبارگی مکمل نازل ہوتا تو یہ فوائد حاصل نہیں ہوسکتے تھے۔

(١١) گیارہویں وجہ یہ ہے کہ جب قرآن مجید ٢٣ (تئیس) سال تک لگاتار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوتا رہا تو حضرت جبریل (علیہ السلام) کو بار بار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا موقع ملتا رہا۔

(١٢) بارہویں وجہ یہ ہے کہ جس نبی پر جس جگہ اللہ کی کتاب نازل ہوئی اس جگہ کو مہبط وحی الٰہی بننے کا شرف حاصل ہوا، دور سے نبیوں کی وجہ سے کسی ایک جگہ کو یہ شرف حاصل ہوا اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے سر زمین عرب کے بہ کثرت مقامات کو یہ شرف حاصل ہوا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وجہ سے جو مرتبہ کوہ طور کو حاصل ہوا تھا وہ مکہ اور مدینہ کے ریگ زارں، پہاڑوں، میدانوں، سواریوں حتیٰ کہ ام المومنین حضرت عائشہ (رض) کے بستر کو بھی وہ مرتبہ اور مقام حاصل ہوا کیونکہ کئی مرتبہ حضرت عائشہ کے بستر پر بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل ہوا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 32