أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ شِئۡنَا لَبَـعَثۡنَا فِىۡ كُلِّ قَرۡيَةٍ نَّذِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک عذاب سے ڈرانے والا بھیج دیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک عذاب سے ڈرانے والا بھیج دیتے۔ سو آپ کافروں کی پیروی نہ کریں اور اس قرآن کے ذریعہ ان سے بڑا جہاد کریں۔ (الفرقان : ٥٢-٥١ )

جہاد کبیر کا معنی 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی اور ہر شہر میں ایک سرول بھیج دیتے جو ان کو کفر اور نافرمانی کرنے پر اللہ کے عذاب سے ڈراتا، جی اس کہ ہم نے مختلف علاقوں میں بارشیں نازل کی ہیں اور مادی رزق کی فراہمی کے معتدد ذرائع بنا دیئے ہیں، اسی طرح ہم چاہتے تو روحانی رزق کے بھی متعدد وسائل بنا دیتے اور آپ سے تبلغی دین کی مشقت کا بوجھ کر کردیتے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا بلکہ آپ کو تمام جہانوں کے لئے نذیر بنایا اور جس طرح ایک آفتاب تمام کائنات کو روشن کرنے کے لئے کافی ہے اسی طرح صرف آپ کی تنہا ذات تمام جہانوں کی ہدایت کے لئے کافی ہے۔

اور یہ جو فرمایا کہ آپ اس قرآن کے ذریعہ ان سے بڑا جہاد کریں اس کا ایک محمل یہ ہے کہ آپ قرآن سے ان کے سامنے دلائل پیش کریں یا اسلام کی حقانیت پر ان کے سامنے دلائل پیش کریں، بعض علمئا نے کہا تلوار سے ان کے خلاف جہاد کریں، لیکن یہ معنی بعید ہے، کیونکہ یہ سورت مکی ہے اور جہاد مدینہ میں شروع ہوا تھا۔

جہاد کبیر کا معنی یہ ہے کہ تلیغ دین کے لئے مسلمان اپنی تمام توانائیوں اور تمام مساعی کو بروئے کار لے آئیں اور اسلام کو سربلند کرنے کے لئے متام ذرائع اور وسائل کو دائو پر لگا دیں اور جس جس محاذ اور مورچے پر دشمن کی طاقتیں کام کر ہی ہوں اپنی تمام قوتوں کو وہاں صرف کردیں اور جان و مال، زبان و قلم اور اسلحہ اور مادی آلات کے ساتھ کفار کے خلاف جہاد کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 51