أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡ مَرَجَ الۡبَحۡرَيۡنِ هٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ وَّهٰذَا مِلۡحٌ‌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخًا وَّحِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا ۞

ترجمہ:

اور وہی ہے جس نے دو سمندر آپس میں ملا کر جاری کردیئے یہ نہایت شیریں ہے اور یہ کھاری (اور) کڑوا ہے اور ان کے درمیان ایک (قدرتی) حجاب اور روکی ہوئی آڑ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہی ہے جس نے دو سمندر آپس میں مل اکر جاری کردیئے یہ نہایت شیریں اور یہ کھاری (اور) کڑوا ہے، اور ان کے درمیان ایک (قدرتی) حجاب اور ایک روکی ہوئی آڑ ہے۔ (الفرقان : ٥٣ )

مرج اور حجرا محجوراً کا معنی 

مرج کا منی ہے ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ ملانا اور اس کا معنی ہے دو چیزوں کے درمیان تخلیہ کرنا، مرج الحبرین کا معنی ہے دو سمندروں کے درمیان تخلیہ کرنا، ثعلب نے کہا مرج کا معنی ہے جاری کردیا اور مرج البحیرن کا معنی ہے دو سمندروں کو جاری کردیا، اور حجرا محجوراً کا معنی ہے ان دو سمندروں کے درمیان ایک ستر اور حجاب رکھ دیا، جو ان دونوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور مختلط ہونے سے مانع ہے، البرزخ کا معنی ہے حاجز اور الحجر کا معنی ہے مانع۔

حسن بصری نے کہا اس سے مراد بحر فارس اور بحر روم ہے۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ١٣ ص ٥٧ مطبوعہ دارالفکر یروت، ١٤١٥ ھ)

سمندر میں کھارے اور میٹھے پانی کا اجتماع عموماً ایسے مقامات پر ہوتا ہے جہاں سمندر میں دریا کا پانی آ کر کرتا ہے۔ ایک جگہ دریا کا میٹھا پانی ہوتا ہے اور اس سے متصل مسندر کا کھاری پانی ہوتا ہے اور یہ دونوں پانی ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں ہوتے، اسی طرح سمندر کے بعض مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے ہیں وہاں بھی یہ صورت ہے کہ سمندر میں ایک مقام پر کھاری پانی ہے اور دوسرے مقام پر میٹھا پانی ہے یہ دونوں پانی کے چشمے ہیں وہاں بھی یہ صورت ہے کہ سمندر میں ایک مقام پر کھاری پانی ہے اور دوسرے مقام پر میٹھا پانی ہے یہ دونوں پانی مت صل ہیں اور ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں ہوتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 53