أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُهُمۡ وَلَا يَضُرُّهُمۡ‌ؕ وَكَانَ الۡـكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

اور وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ کوئی نقصان پہنچ اسکتے ہیں اور کافر اپنے رب کی مخالفت کرنے پر کمر بستہ رہتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ کوئی نقصان پہنچ اسکتے ہیں اور کافر اپنے رب کی مخالفت پر کمر بستہ رہتا ہے۔ (الفرقان : ٥٥ )

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں اور اپنی قدرت کے کمال کا بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ اس کی نعمتوں کے باوجود کافروں کا اپنے کفر پر اصرار کرنا کس قدر تعجب خیز ہے وہ ان پتھروں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع پہنچ اسکتے ہیں نہ کسی ضرر کو دور کرسکتے ہیں اور فرمایا کافر اپنے رب کی مخالفت پر کمر بستہ رہتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں کافر سے مراد ابوجہل لعنہ اللہ ہے، جو بتوں کی عبادت پر اپنے چیلوں کو ابھارتا ہے۔ عکرمہ نے کہا اس سے راد ابلیس ہے جو اللہ تعالیٰ کی عداوت پر کمر بستہ رہتا ہے۔ حسن بصری نے کہا اس سے مراد شیاطن ہے جو لوگوں کی گناہوں پر اعانت کرتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کافر اپنے رب کے سامنے ذلیل اور عاجز ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 55