أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّعَادًا وَّثَمُوۡدَا۟ وَاَصۡحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوۡنًۢا بَيۡنَ ذٰلِكَ كَثِيۡرًا۞

ترجمہ:

اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان بہت سی قوموں کے لئے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور عاد اور ثمود اور کنویں والوں اور ان کے درمیان بہت سی قوموں کے لئے۔ (الفرقان : ٣٨)

الرس کا معنی 

اس آیت میں عاد، ثمود، اصحاب الرس اور ان کے درمیان کی قوموں کا عطف قوم نوح پر ہے یعنی آپ قوم نوح کو یاد کیجیے اور عاد، ثمود، اصحاب الرس اور ان کی درمیانی قوموں کو یاد کیجیے، یا اس کا معنی ہے ہم نے قوم نوح کو غرق کردیا اور ان کے لئے آخرت میں عذاب تیار کر رکھا ہے، اسی طرح ہم نے عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور ان کیی درمیان قوموں پر عذاب نازل کر کے ان کو نیست و نابود کردیا اور آخرت میں ان کے لئے عذاب تیار کر رکھا ہے۔

الرس کلام عرس میں اس کنوئیں کو کہتے ہیں جس کے گرد منڈیر نہ ہو، یعنی معاون کے کنوئیں۔ صحاح جوہری میں مرقوم ہے کہ الرس اس کنوئیں کا نام تھا جو قوم ثمود کے بقیہ لوگوں کا تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ الرس بنو اسد کے پانی اور ان کے باغات کا نام ہے۔ امام قشیری نے ذکر کیا ہے کہ پہاڑوں پر جوتہ بہ تہ برف جم جاتی ہے اس کو الرس کہتے ہیں اور الرس کا معروف معنی وہ ہے جس کو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے ابوعبیدہ نے ذکر کیا ہے کہ الرس وہ کنواں ہے جس کے گرد منڈیر نہ ہو۔ ایک قول یہ یہ کہ یہ کنواں آذر بائیجان میں ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ کنواں یمامہ میں ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ انطاکیہ میں ہے۔ اس کا معنی ہے دھنسا دینا، لوگوں نے اپنے نبی کو اس میں دھنسا دیا تھا اس لئے اس کنوئیں کو الرس کہتے ہیں۔ (زاد المسیرج ٦ ص ٩٠)

اصحاب الرس کی تفسیر اور ان کے مصداق کے متعلق متعدد اقوال 

اصحاب الرس کے مصداق میں مفسرین کے حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) حضرت علی (علیہ السلام) نے کہا اصحاب الرس ایک قوم ہے جو درخت کی عبادت کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہود ابن یعقوب کی اولاد سے ان کی طرف ایک نبی بھیجا، انہوں نے ایک کنواں کھود کر اس نبی کو اس کنوئیں میں گرا دیا، اس کی پاداش میں ان کو عذاب سے ہلاک کردیا گیا۔ 

(٢) سعید بن جبیر نے کہا یہ دو قوم ہے جس کے نبی کا نام حنظلہ بن صفوان تھا، انہوں نے اپنے بنی کو قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیج کر ان کو ہلاک کردیا۔

(٣) وھب بن منبہ نے کہا یہ قوم ایک کنوئیں کے پاس رہتی تھی، یہ لوگ اس کنوئیں سے پانی لیتے تھے اور ان کے مویشی بھی تھے۔ یہ لوگ بتوں کی عبادت کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت شعیب کو بھیجا مگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو یہ کنواں منہدم ہوگیا (ڈھے گیا) اور ان لوگوں کو اور ان کے گھروں کو اس کنوئیں میں دھنسا دیا گیا۔

(٤) سدی نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حبیب النجار کو قتل کر کے اپنے کنویں میں ڈال دیا تھ، ان ہی کے متعقل یہ آیت ہے : یقوم اتبعوا المرسلین۔ (یٰسین : ٢٠ )

(٥) ابن السائب نے کہا یہ وہ قوم ہے جو اپنے نبی کو قتل کر کے کھا گئی تھی اور یہ وہ قوم ہے جس کی عورتوں نے سب سے پہلے جادو کیا تھا۔ (زاد المسیرج ٦ ص ٩٠ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

علامہ قرطی نے اصحاب الرس کی تفسیر میں بہت زیادہ اقوال نقل کئے ہیں۔ (الجامع الا حکام القرآن جز ١٣ ص ٣٢) مگر ہم نے جتنے اقوال ذکر کردیئے ہیں، وہ کافی ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 38