أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ۞

ترجمہ:

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کی جزا میں جنت کی بلند عمارات دی جائیں گی اور وہاں ان کو دعا اور سلام پیش کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کی جزا میں جنت کی بنلد عمارات دی جائیں گی اور وہاں ان کو دعا اور سلام پیش کیا جائے گا۔ وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے وہ ٹھہرنے اور رہنے کی عمدہ جگہ ہے۔ (الفرقان :75-76)

رحمان کے مقبول بندوں کی جزاء 

یعنی رحمٰن کے یہ مقبول بندے جنت میں بلند درجے کو حاصل کریں گے، غرفہ بلند وبالا عمارت کو کہتے ہیں، دنیا کی کسی بلند ترین عمارت کو دیکھ کر بھی جنت کے پر شکوہ محلات کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ان کو یہ بلند درجات ان کے صبر کرنے کی وجہ سے حاصل ہوں گے، اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اس کی عبادت میں مشقت برداشت کرنے میں جو صبر کیا تھا، اور یا مشرکین کی پہنچائی ہوئی اذیتوں کو برداشت کرنے میں جو صبر کیا تھا، یا اپنی نفسانی خواہشوں اور شہوات کے تقاضوں کو روکنے میں جو صبر کیا تھا، اس صبر کی جزاء میں ان کو جنت کے بالا خانے دیے جائیں گے اور جنت میں فرشتے ان کو سلام کریں گے۔ یا وہ خود ایک دور سے کو سلام کریں گے یا ان کا رب ان کو سلام بھیجے گا، اور ایک قول یہ ہے کہ سلام سے مراد یہ ہے کہ وہ آفات اور مصائب سے سلامت رہیں گے اور وہ اس جنت میں ہمیشہ رہین والے ہوں گے وہ ٹھہرنے اور رہنے کی عمدہ جگہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 75