أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ‏ ۞

ترجمہ:

یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں

الکتاب المبین کا معنی 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں، اس کا معنی یہ ہے : یہ سورت، اس روشن کتاب کی آیتوں کا مجموعہ ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس سورت کے مخاطب کفار مکہ میں تو اس سورت کی آیات ان کے لئے ان احکام کو کیسے بیان کرنے والی ہوں گی جن پر عمل کرنا ان کے لئے لازم ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس قرآن کی کسی ایک سورت کی نظیر لانے کا ان کو چیلنج دیا گیا اور جب وہ ایک بڑے عرص ہتک اس کی کسی ایک سورت کی بھی نظیر لانے سے عاجز رہے تو یہ واضح ہوگیا کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ربوبیت ثابت ہوگئی اور چونکہ یہ کلام سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا ہے اس لئے آپ کی رسالت بھی ثابت ہوگئی اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اس پر لازم ہے کہ وہ قرآن مجید کے بیان کئے ہوئے تمام احکام پر ایمان لائے اور ان پر عمل کرے۔

الکتاب المبین کا معنی ہے واضح اور روشن بیان کرنے والی کتاب، قرآن مجید نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور ان کو ماننے کا حکم دیا ہے اور شیطان اور بتوں کو ماننے اور ان کی عبادت کرنے سے منع فرمایا ہے، اور اس حکم کو قرآن مجید نے وضاحت سے آسان اور سادہ دلائل کے ساتھ بیان کردیا ہے، اسی طرح نماز پڑھنے، روزہ رکھنے، زکوۃ ادا کرنے حسب استطاعت حج کرنے کا حکم دیا ہے، عفت اور پاک دامنی کا حکم دیا ہے، شراب پینے، جوا کھیلنے، سود کھانے، چوری، ڈاکا، زنا، لوگوں کی حق تلفی کرنے اور ناجائز مال کھانے سے منع فرمایا ہے، یہ احکام اس کتاب میں بہت آسان اور سادہ طریقے سے بیان کردیئے ہیں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کتاب میں کیا احکام ہیں کس کام کے کرنے کا حکم دیا ہے اور کس کام کے کرنے سے منع کیا ہے اور اس کتاب نے جو احکام دیے ہیں ان کے معقول، درست اور قابل عمل ہونے کا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا اور یہ احکام ایسے نہیں ہیں کہ ان کو شعر و شاعری، جنتا کی بتائی ہوئی جھوٹی سچی باتیں یا جادو کہا جاسکے، یہا نسا ن کے عمل کرنے کے لئے کھلے کھلے احکام ہیں، ان میں کوئی پہلی یا بجھارت نہیں ہے اور ہر انصاف پسند شخص یہ تسلیم کرے گا اور مانے گا کہ دنیا اور آخرت کی فلاح اور کامیبای ان ہی احکام پر عمل کرنے سے حاصل ہوسکتی ہے تو اب اس بات کی صداقت میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں !

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 2